بخدمت جناب مفتی صاحب دارالافتاءالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عرض یہ ہے کہ بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ، کراچی، پاکستان کا ایک معروف دینی و رفاہی ادارہ ہے، جو خالصتاً اللہ کی رضا، خدمتِ خلق اور اصلاحِ معاشرہ کے جذبے کے تحت مستحقِ زکوۃ اور ضرورتمند لوگوں کی معاونت کیلئے ملک بھر میں کام کر رہا ہے،ادارے کی تمام سرگرمیاں عوام الناس کے تعاون، بالخصوص زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کے ذریعے جاری ہیں،اس سلسلے میں رہنمائی مطلوب ہے کہ کیا بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ کے لئے زکوٰۃ اور صدقات کا لینا شرعاً جائز ہے؟شرعی رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
سوال میں مذکور رفاہی ادارہ ویلفیئر ٹرسٹ کے منشور میں مستحقِ زکوۃ اور ضرورت مند لوگوں کو مالی معاونت کرنا بھی شامل ہے،لہذا اس ادارے کے توسط سے مستحقِ زکوۃ لوگوں کی مالی معاونت کرنے کی غرض سےزکوۃ اور صدقات واجبہ کی ادائیگی شرعاً جائز اور درست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : انَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَة قُلُوْبُھُمْ وَفِیْ الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِيْ سَبِیْلِ اللہِ وَاِبْنِ السَّبِیْلِ(سورۃ التوبہ /60)۔
وفی الدر : أي مصرف الزكاة (الی قولہ) (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ (باب المصرف/2/339)۔
وفی الدر: ویشترط ان یكون الصرف تملیكًا لا اباحة كما مر لا یصرف الٰی بناء نحو مسجد ولا الٰی كفن میت وقضاء دین اهـ (2/344)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0