السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، میں نکاح کے ایک معاملے کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں،تقریباً پانچ سال قبل میرے چچا نے زبردستی میرا اور اپنی بیٹی کا نکاح طے کیا، اُس وقت نہ میں اس نکاح پر راضی تھا ،اور نہ ہی اُن کی بیٹی، دیگر گھر والے بھی اس نکاح کے حق میں نہیں تھے،یہ بھی وضاحت کرتا چلوں کہ تقریباً پانچ سال تک میری چچا کی بیٹی اس نکاح پر راضی نہیں تھی، لیکن بعد میں میرے چچا نے زبردستی اپنی بیٹی کو اس نکاح کے لیے راضی کیا، مزید یہ کہ اب ہم پر ہمارے تایا جان کے ذریعے یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اگر میں نے یہ شادی نہ کی تو وہ ہم سے تمام گھروالےرشتہ داری ختم کر دیں گے،میرا سوال یہ ہے کہ اگر نکاح میں لڑکا اور لڑکی دونوں راضی نہ ہوں تو اسلام اور علماءِ کرام کے نزدیک اس نکاح کا کیا حکم ہے؟ ساتھ ہی یہ بھی عرض ہے کہ اگر نکاح نہ کرنے کی صورت میں خاندان والے رشتہ داری ختم کرنے کی دھمکی دیں ،یا حقیقت میں رشتہ داری توڑ دیں تو اسلام اور علماءِ کرام کی نظر میں اس عمل کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسا نکاح شرعاً درست اور معتبر ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہاء کی آراء کی روشنی میں اس معاملے پر رہنمائی فرمائیں، تاکہ میں اپنی شرعی حیثیت کو سمجھ سکوں۔
نوٹ: سائل کے چچا نے سائل اور اپنی بیٹی کا رسمی طور پر صرف منگنی طے کی تھی ،باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے نکاح منعقد نہیں کیا تھا۔
واضح ہو کہ عقدِ نکاح محض وقتی اور عارضی مصلحت کے لیے نہیں کیا جا تا ،بلکہ زندگی بھر نبھانے کے لیے کیا جاتا ہے ، اس سے دو خاندانوں میں جوڑ و اتفاق اوردو افراد کے درمیان خوشحالی اور محبت پپدا ہوتی ہے ، اس لیے نکاح کرتے وقت لڑکے اور لڑکی کے قلبی میلان، دونوں کی طبیعتوں میں یکسانیت، اور ذہنی ہم آہنگی کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے ، ورنہ بسا اوقات بعد میں میاں بیوی کے درمیان نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں ،جوطلاق اور علیحدگی کا باعث بنتی ہیں ،چنانچہ اسی وجہ سے حدیث شریف میں بھی نکاح سے قبل لڑکا اور لڑکی کا اجنبی ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو ایک نظر دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے ، لہذا صورت ِمسئولہ میں اگر سائل اور اس کے چچا کی بیٹی دلی طور پر اس نکاح کے لیے آمادہ بھی نہ ہوں ، تو سائل کے چچا کا ان کو نکاح پر مجبور کرنا اور نکاح نہ کرنے کی صورت میں ان سے خاندانی طور پر قطع تعلق ( بائیکاٹ) کرنا درست نہیں ، اس لیےسائل کواپنے چچا اور خاندان والوں کو مناسب اندازسے سمجھا کر اس رشتہ پر اصرار کرنے سے منع کرنا چاہیئے۔
کما فی صحیح البخاری: عن شھاب أن محمد بن جبیر بن مطعم قال إن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ أخبرہ أنہ سمع النبی ﷺ یقول لا یدخل الجنۃ قاطع ( باب إثم القاطع ج:4، ص: 2672، ط: بشری)۔
قال العلامۃ محمد زکریا الکاندھلوی فی حاشیتہ: و للمصنف ”الأدب المفرد“ من حدیث أبی ھریرۃ رفعہ إن أعمال بنی آدم تعرض کل عشیۃ خمیس لیلۃ جمعۃ فلا یقبل العمل قاطع رحم، و للطبرانی من حدیث ابن مسعود إن أبواب السماء مغلقۃ دون قاطع الرحم و غیر ذلک من الروایات ذکرھا الحافظ (باب إثم القاطع ج: 4،ص: 2672، ط: بشری)
و فی مشکاۃ المصابیح: عن المغیرۃ بن شعبۃ قال خطبت إمرأۃ فقال لی رسول اللہﷺ ھل نظرت إلیھا قلت لا قال فانظر إلیھا فإنہ أحری أن یؤدم بینکما رواہ أحمد و النسائی و إبن ماجۃ و الدارمی ( کتاب النکاح باب النظر إلی المخطوبۃ ج: 2، ص: 281، ط: قدیمی)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح تحت الحدیث: عن المغیرۃ بن شعبۃ قال خطبت إمرأۃ ( إلی قولہ) أی یوقع الأدم بینکما الألفۃ و المحبۃ لأن تزوجھا إذا کان بعد معرفۃ فلا یکون بعدھا غالبا ندامۃ الخ ( کتاب النکاح باب النظر إلی المخطوبۃ ج:2 ص281، ط: حقانیۃ)۔
و فی الدر المختار: ( و لا تجبر البالغۃ البکر علی النکاح ) لإنقطاع الولایۃ بالبلوغ الخ ۔
و فی الشامیۃ تحت: ( قولہ ولا تجبر البالغۃ الخ) و لا الحر البالغ و لمکاتب و المکاتبۃ و لو صغیرین الخ ( کتاب النکاح باب الولی ج: 3، ص: 58، ط: سعید )۔