میرا سوال جمعہ کی نماز سے پہلے سنت کے حوالے سے ہے۔ میں فقہِ حنفی کا پیروکار ہوں اور حال ہی میں مجھے جمعہ کے خطبے سے پہلے سنت کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ مقامی عالم، جو فقہِ مالکی سے تعلق رکھتے ہیں، اس نے بیان کیا کہ جمعہ کی نماز سے پہلے کوئی سنت نہیں ہے۔ مجھے اس بارے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ چونکہ میں حنفی ہوں، اس لیے میں ہمیشہ جمعہ کی نماز سے پہلے 4 رکعت سنت پڑھتا آیا ہوں۔ اب میں اس بات پر بہت فکرمند ہوں کہ آیا جمعہ سے پہلے 4 رکعت سنت پڑھنا درست ہے یا نہیں۔ براہِ کرم اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں اور متعلقہ دلائل بھی بیان کریں۔جزاک اللہ
واضح ہو کہ نمازِ جمعہ سے قبل کی چار سنتیں بلاشبہ احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہیں، اور عند الاحناف جمعہ کی نماز سے پہلے اور بعد میں چار رکعت سنتیں پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہیں ،اور بلاعذر اس کو ترک کرنا درست نہیں ،البتہ بعد والی چار سنتوں کے بعد دورکعت پڑھنا سنت غیر مؤکدہ ہے ،جن کا پڑھنا افضل اور نہ پڑھنا کو ئی گناہ نہ ہو گا۔
وفی صحیح البخاری : عن عبد الله بن عمر:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي: قبل الظهر ركعتين، وبعدها ركعتين، وبعد المغرب ركعتين في بيته، وبعد العشاء ركعتين، وكان لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف، فيصلي ركعتين. اھ( باب صلاۃ بعد الجمعۃ وقبلہا،ج: 1 ص :317 ناشر : دار ابن کثیر)
كما في عمدةالقاری : وروي عن عبد الله بن مسعود أنه كان يصلي قبل الجمعة أربعا وبعدها أربعا،الخ ( باب التطوع بعد المکتوبۃ ، ج: 7 ص : 234 ناشر :الطباعۃ المنیریۃ)
وفی اعلاء السنن : عن علی رضی اللہ عنہ قال ، کان رسول اللہ ﷺ یصلی قبل الجمعۃ اربعاً وبعدھا اربعاً یجعل التسلیم فی آخرھن رکعۃ( کتاب النوافل ،ج: 7 ص: 21 ناشر: مکتبہ اشرفیہ)
وفي الدر المختار :( وسن ) مؤكداً ( أربع قبل الظهر و ) أربع قبل ( الجمعة و ) أربع ( بعدها بتسليمة ) فلو بتسليمتين لم تنب عن السنة، ولذا لو نذرها لايخرج عنه بستليمتين وبعكسه يخرج اھ.(كتاب الصلاة،ج:2،ص:12،ط: سعيد)
وفی البحر الرائق:( قوله: والسنة قبل الفجر وبعد الظهر والمغرب والعشاء ركعتان وقبل الظهر والجمعة وبعدها أربع ) شرع في بيان النوافل بعد ذكر الواجب فذكر أنها نوعان: سنة ومندوب، فالأول في كل يوم ما عدا الجمعة ثنتا عشرة ركعةً، وفي يوم الجمعة أربع عشرة ركعةً، والأصل فيه ما رواه الترمذي وغيره عن عائشة رضي الله عنها قالت: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ثابر على ثنتي عشرة ركعةً من السنة بنى الله له بيتاً في الجنة(كتاب الصلاة،ج:2،ص:47،ط:رشیدیۃ)
وفي فقه العبادات علي مذهب المالكي: يكره التنفل عند الأذان الأول لا قبله لجالسٍ يقتدى به. الخ ( الباب التاسع صلاۃ الجمعۃ ص: 243 ناشر : مطبعۃ النشاء)