ہم کو این جی او رجسٹر کرنی ہے، معلوم یہ کرنا تھا کہ اس کی آئ ہوئی رقم ہم مدارس میں غریب و غرباء کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟ کیونکہ سب سے مناسب ہمیں مدرسے ہی لگتے ہیں جہاں بچوں کی تعلیم ہوتی ہے، قرآن اور دین کی، ساتھ ہی ساتھ ہماری این جی او کا نام "۔۔۔۔ ویلفیئر" ہے، ہم کو جواب دیجیے گا ۔
جی ہاں! وہ دینی مدارس جو زکوٰۃ کی درست ادائیگی اور صحیح مصارف پر خرچ کرنے کا اہتمام کرتے ہوں، ان کو زکوٰۃ وغیرہ کی رقم دی جا سکتی ہے۔
فی الدر المختار: ( ھی ) لغۃ الطھارۃ و النماء، و شرعاً ( تملیک ) خرج الإباحۃ، فلو أطعم یتیما ناویا الزکوٰۃ لایجزیہ إلا إذا وقع الیہ المطعوم کما لو کساہ بشرط أن یعقل القبض إلا اذا حکم علیہ بنفقتھم الخ
و فی الشامیۃ تحت (قولہ إلا إذا دفع إلیہ المطعوم ) لأنہ بالدفع إلیہ بنیۃ الزکوٰۃ یملکہ فیصیر آکلا من ملکہ، بخلاف ما إذا اطعمہ معہ، و لا یخفی انہ یشترط کونہ فقیرا الخ (کتاب الزکوٰۃ، ج 2، ص 257، ط: ایچ ایم سعید )۔
و فی التاتارخانیۃ : و لا یجوز الزکوٰۃ إلا إذا قبضھا الفقیر، أو قبضھا من یجوز قبضھا لہ لولایتہ علیہ کالأب و الوصی یقبضان للمجنون و الصبی و کذلک اقاربھما إذا کانا فی عیالھم الخ (الفصل الثامن فی المسائل المتعلقۃ بمن توضع فیہ الزکوٰۃ، ج 3، ص 212،ط: رشیدیہ)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1