کیا دیوبندی مسلک کی لڑکی داؤدی بوہری فرقہ میں نکاح کر سکتی ہے؟
معروف بوہری فرقہ بھی رافضیوں کی ہی ایک شاخ ہے، اگر اس فرقہ سے وابستہ لوگ بھی قرآن کریم میں تحریف، شراب اور زنا کے حلال، خلفاءِ راشدین کے علاوہ دیگر صحابہ کرام سے متعلق معاذاللہ کافر ہونے کا اعتقاد رکھتے ہوں تو ان کفریہ عقائد کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے، لہذا کسی بھی سنی لڑکی کا ان کفریہ عقائد کےحامل لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہ ہوگا۔ (از ادیانِ باطلہ اور صراطِ مستقیم: صفحہ ۹۷ تا ۱۰۷)۔
کما اللہ تعالی: وَلَا تَنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكَٰتِ حَتَّىٰ يُؤۡمِنَّۚ وَلَأَمَةٞ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٞ مِّن مُّشۡرِكَةٖ وَلَوۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡۗ وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ وَلَعَبۡدٞ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٞ مِّن مُّشۡرِكٖ وَلَوۡ أَعۡجَبَكُمۡۗ( سورۃ البقرۃ:221)۔
و فی مرقاۃ المفاتح: قَالَ الْإِسْبِيجَابِيُّ: اتَّفَقُوا عَلَى أَنَّهُ إِذَا أَنْكَرَ رِبَا النَّسَاءِ أَيِ التَّأْخِيرَ يَكْفُرُ الخ ( باب الربا، ج: 5، ص: 1924)۔
و فی الدر المختار: أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع، جمع، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة الخ (فصل فی المحرمات، ج: 3، ص: 28، ط: سعید)۔
وفی رد المحتارتحت: (قوله: وفي النهر إلخ) بخلاف من خالف القواطع المعلومة بالضرورة من الدين مثل القائل بقدم العالم و نفي العلم بالجزئيات على ما صرح به المحققون و أقول: و كذا القول بالإيجاب بالذات و نفي الاختيار. اهـ (الی قولہ) و بهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي تنبيه الولاة و الحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه و عليهم الصلاة والسلام الخ (فصل فی المحرمات، ج: 3، ص: 46، ط: سعید)۔