کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ نکاح کے دوران ایجاب قبول کرتے وقت حق مہر پانچ ہزار روپےطے ہوا تھا، مہر کے علاوہ بیس لاکھ روپے نکاح نامہ کے شرائط میں اس طور پر لکھوائے گئے کہ اگر شوہر طلاق دے گا ،تو بیوی کو بیس لاکھ روپے دینے لازم ہونگے، اور اگر بیوی خود طلاق کا مطالبہ کر ے گی تو مذکور رقم ادا نہیں کیا جایئگا،یہ بیس لاکھ روپے شرائط ہی کے کالم میں لکھوائے گئے تھے، نہ کہ مہر کے خانہ میں، اب چونکہ شوہر نے بیوی کو طلاق دیدی ہے اور مذکور رقم دینے سے انکاری ہے، کیا شوہر پر مذکور رقم ادا کرنا لازمی ہے؟ اور کیا بیوی اس رقم کا مطالبہ کر سکتی ہے؟براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب مہر کے عنوان سے مستقل طور پر پانچ ہزار کی رقم مختص کر دی گئی تھی، تو شوہر پر فقط اسی کی ادائیگی لازم ہے، جبکہ طلاق کی صورت میں 20 لاکھ کی ادائیگی لازم اور شرط قرار دینا شوہر کے حقِ طلاق پر پابندی اور مالی جرمانہ کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ شرعاً جائز نہیں، اس لئے شوہر پر 20 لاکھ کی ادائیگی لازم نہیں،اور نہ ہی لڑکی والوں کو اس کے مطالبے کا حق ہے، لہذا انہیں اپنے اس ناجائز مطالبہ سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : وأوفوا بالعھد إن العھد کان مسؤلا (سورۃ بنی اسرائیل، آیۃ 36)۔
وفی سنن ابی داؤد: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسولﷺ الصلح جائز بین المسلمین، زاد احمد الا صلحاً حرم حلالا أو احل حراما زاد سلیمان بن داود وقال رسول اللہﷺ المسلمون علی شروطھم الخ (باب فی الصلح، ج2، ص1359،ط:بشری)۔
وفی المصنف لعبد الرزاق: عبد الزاق عن الثوری عن الاجلح عن عدی بن عدی عن رجل عن عمر قال رفعت الیہ امرأۃ تزوجھا رجل وشرط لھا دارھا فقال عمر أوف بشرطھا
وفیہ ایضاً: عبد الرزاق عن ابن جریج والثوری أن عبد الکریم اخبرھما عن ابی عبیدۃ بن عبداللہ ابن مسعود قال أتی معاویۃ فی امرأۃ شرط لھا زوجھا أن لھا دارھا فسأل عمرو بن العاص فقال اری ان یفی لھا بشرطھا الخ (باب الشرط فی النکاح، ج6، ص228، ط:ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)۔
وفی رد المحتار: (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. الخ (باب التعزیر، ج4، 61، ط:سعید)
وفی فقہ البیوع : ذھب إلی أن الوعد إذا تم علی سبب ودخل الموعود لہ بسبب الوعد فی شئی فإن الوعد لازم یجب الوفاء ویقضی بہ القاضی علی الواعد (الی قولہ) مثال ذالک أن یقول الرجل اھدم دارک وأنا اقرضک فھدم الموعود لہ دارہ اعتماداً علی وعدہ فیلزم الواعد قضاء أن یقرضہ المبلغ الموعود الخ ( حکم الوعد او المواعدۃ، ج1، ص 77، ط: معارف القران )۔
وفیہ ایضاً: و کذالک یوجد عند الحنفیۃ نصوص تدل علی لزوم الوعد وکون الوفاء بہ واجبا علی الواعد فقال الإمام أبو بکر جصاصؒ فی تفسیر قولہ تعالی: یا أیھا الذین آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون (الصف:2) یحتج بہ فی أن کل من الزم نفسہ عبادۃ أو قربۃ وأوجب علی نفسہ عقدا لزمہ الوفاء إذ ترک الوفاء بہ یوجب أن یکون قائلا ما لا یفعل و قد ذم اللہ فاعل ذلک وھذا فیما لم یکن معصیۃ الخ (حکم الوعد او المواعدۃ الخ ج:1،ص:82،ط: مکتبۃ معارف القرآن کراچی)۔