میرے شوہر کی تنخواہ کم ہونے کی وجہ سے گھرکے مالی معاملات میں 80 فیصد خرچہ میں پورا کرتی ہوں اپنی تنخواہ سے۔ میں نے سنا ہے کہ بیوی شوہر کو زکوۃ دے سکتی ہیں تو کیا میں جوگھر میں مالی معاونت کی مد میں جو خرچ کر رہی ہوں، اسے میں زکوۃ میں شمار کر سکتی ہوں؟ کیونکہ گھریلو خرچ پورا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے، بیوی کی نہیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ بینک سے آیا ہوا منافع میں خود پر خرچ نہیں کرتی ،میں ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتی ہوں ،تو کیا وہ معاوضہ بھی میں اپنے شوہر کو ادا کر سکتی ہوں؟
فقہاء احناف کے نزدیک میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوۃ نہیں دے سکتے، خواہ دونوں میں سے کوئی فقیر اور مستحق ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ صورت مسئولہ میں سائلہ گھریلوںضروریات میں شوہر کی معانت کے لیے خرچ کی گئی رقم کو اپنی زکوۃ میں شمار نہیں کر سکتی، بلکہ سائلہ کے ذمہ اپنی زکوۃ دیگر مستحقین پر خروچ کرنا لازم ہے، جبکہ بینک سے حاصل شدہ منافع اگر کسی سودی بینک کے اکاؤنٹ سے حاصل ہوتا ہو تو ناجائز اور حرام ہے، جسے جلد از جلد ختم کرنا اور اب تک حاصل شدہ منافع حاجت مند فقراء پر بلا نیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہے، لہذا اس منافع کی رقم کو سائلہ کے لیے براہ راست خودیا اپنے شوہر کے واسطے سے اپنی گھریلو ضروریات پر خرچ کرنے سے احتراز لازم ہے، اور اگر سائلہ کا اکاؤنٹ کسی غير سودی بینک میں ہو تو اس سے حاصل ہونے والے منافع کو اپنے استعمال میں لانے یا شوہر کو ہدیہ کرنے کی شرعا گنجائش ہے۔
كما في الهداية: "ولا إلى امرأته" للاشتراك في المنافع عادة "ولا تدفع المرأة إلى زوجها" عند أبي حنيفة رحمه الله لما ذكرنا. وقالا: تدفع إليه لقوله عليه الصلاة والسلام "لك أجران أجر الصدقة وأجر الصلة" قاله لامرأة عبد الله بن مسعود رضي الله عنه وقد سألته عن التصدق عليه قلنا هو محمول على النافلة. [(1/ 111)]
وفي بدائع الصنائع: ومنها أن لا تكون منافع الأملاك متصلة بين المؤدي وبين المؤدى إليه؛ لأن ذلك يمنع وقوع الأداء تمليكا من الفقير من كل وجه بل يكون صرفا إلى نفسه من وجه وعلى هذا يخرج الدفع إلى الوالدين وإن علوا والمولودين وإن سفلوا؛ لأن أحدهما ينتفع بمال الآخر ولا يجوز أن يدفع الرجل الزكاة إلى زوجته بالإجماع، وفي دفع المرأة إلى زوجها اختلاف بين. [(2/ 49)]
وفي رد المحتار: وقال في النهاية: قال بعض مشايخنا: كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ. [ط سعيد (6/ 385)]