السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میری اہلیہ کا آپریشن ہونا ہے۔ میرے پاس اس وقت آپریشن کے مکمل اخراجات کے لیے رقم موجود نہیں ہے اور میں خود بھی قرض دار ہوں۔ میری اہلیہ کے پاس تقریباً ڈھائی سے تین لاکھ روپے مالیت کا سونا موجود ہے، لیکن ہم اسے فروخت نہیں کرنا چاہتے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہسپتال سے صدقہ یا زکوٰۃ کی رقم سے اپنی اہلیہ کا آپریشن اور علاج کروا سکتے ہیں؟ اگر ہسپتال میں زکوٰۃ فنڈ یا مستحق مریضوں کے علاج کی سہولت موجود ہو تو کیا ہم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ہماری صورتِ حال میں زکوٰۃ کی رقم سے علاج کروانا جائز ہے یا نہیں۔
جزاکم اللہ خیراً
سائل کی بیوی کی ملکیت میں مذکور سونےکے علاوہ اگر مزید سونا ،چاندی ،نقدی اور ضروریات اصلیہ سے زائد کوئی چیز بقدر نصاب ( ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت)موجود نہ ہو اور وہ سیدہ بھی نہ ہو تو اس کے لئے زکوۃ کے فنڈ سے علاج کرانا جائز ہو گا ۔ ۔
و كمافی حاشیۃ ابن العابدین: قوله: تحرم الصدقة) أي الواجبة أما النافلة فإنما يحرم عليه سؤالها، وإذا كان النصاب المذكور مستغرقا بحاجته، فلا تحرم عليه الصدقة ولا يجب به ما بعدها،الخ( باب صدقۃ الفطر،ج: 2 ص: 360 ناشر: سعید )
وفي حاشیۃ ابن العابدین: ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول،الخ (کتابالزکاۃ ج: 2 ص: 262 ناشر : سعید )
وفیہ ایضاً: قال في العناية: ولا يجوز دفع الزكاة إلى من ملك نصابا سواء كان من النقود أو السوائم أو العروض اهـ فأوهم ما في البحر وهو مدفوع؛ لأن قول العناية سواء كان إلخ مفيد تقدير النصاب بالقيمة سواء كان من العروض أو السوائم لما أن العروض ليس نصابها إلا ما يبلغ قيمته مائتي درهم، وقد صرح بأن المعتبر مقدار النصاب في التبيين وغيره، واستدل له ما في الكافي بقوله صلى الله عليه وسلم «من سأل وله ما يغنيه فقد سأل الناس إلحافا، قيل: وما الذي يغنيه؟ قال: مائتا درهم أو عدلها» . اهـ.(باب مصرف الزکاۃ ،ج:2 ص: 348 ناشر سعید )
وفی بدائع الصنائع : ولو دفع إلى امرأة فقيرة وزوجها غني جاز في قول أبي حنيفة ومحمد وهو إحدى الروايتين عن أبي يوسف.وروي عنه أنها لا تعطي إذا قضي لها بالنفقة.وجه هذه الرواية أن نفقة المرأة تجب على زوجها فتصير غنية بغنى الزوج كالولد الصغير، وإنما شرط القضاء لها بالنفقة؛ لأن النفقة لا تصير دينا بدون القضاء.وجه ظاهر الرواية أن المرأة الفقيرة لا تعد غنية بغنى زوجها؛ لأنها لا تستحق على زوجها إلا مقدار النفقة فلا تعد بذلك القدر غنية.اھ(فصل الذی یرجع الی مؤدی الیہ ج:2 ص:47 ناشر : سعید)
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1