نجاسات اور پاکی

کیا کپڑے کے صرف ناپاک حصہ کو دھونا کافی ہے؟

فتوی نمبر :
10347
| تاریخ :
2010-11-30
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کیا کپڑے کے صرف ناپاک حصہ کو دھونا کافی ہے؟

السلام علیکم! میں پوچھنا چاہتا ہوں اگر کپڑے کا کوئی حصّہ ناپاک ہو جائے ، کیا اس پورے کپڑے کو دھونا ضروری ہے، مثلاً: شلوار یا ٹراؤزر یا یہ کہ صرف اس ناپاک جگہ کو تین بار دھونا کافی ہے؟ کیا یہ نجاست کی مقدار پر موقوف ہے؟ سونے کے دوران احتلام میں کپڑوں کو تبدیل کرنا ضروری ہے نماز پڑھنے کے لیے یا اس ناپاک جگہ کو دھونا کافی ہے؟ جزاک اللہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کپڑے کے جس حصّہ پر نجاست لگ جائے صرف اتنے ہی حصّہ کو دھونا کافی ہے ، پورے کپڑے کو دھونے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مشكاة المصابيح: وعن سليمان بن يسار قال: سألت عائشة عن المني يصيب الثوب فقالت كنت أغسله من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيخرج إلى الصلاة وأثر الغسل في ثوبه بقع الماء اھ (متفق علیه) (1/ 154)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حبیب اللہ قاسم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10347کی تصدیق کریں
0     999
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات