براہِ کرم درجِ ذیل سوالات کے جوابات دے کر راہ نمائی فرما دیجیے !
کیا ٹشو پیپر استنجاء کے لۓ پانی کے بدل کے طور پر استعمال کیاجا سکتا ہے ؟ یہ بیت الخلاء میں مخصوص جگہوں کو صاف کرنے کے لۓ ہوتا ہے ، اگر کر سکتے ہیں تو کیا اس کے استعمال کرنے کا کوئی خاص طریقہ ہے یا ہم صرف صفائی کریں ، یہاں تک کہ ہم طبعی اطمینان حاصل کر لیں ؟ براہِ مہربانی مذکور مسئلے کے متعلق تمام ممکنہ صورتوں کی وضاحت فرما دیجیے۔
۱۔ اگر پاک صاف پانی دستیاب ہو۔
۲۔ اگر یہ شک ہو کہ ہو سکتا ہے موجودہ پانی پاک اور صاف نہ ہو۔
۳۔ اگر اس جگہ پانی میسر ہی نہ ہو۔
پیشاب اور پاخانہ اگر مخرج سے تجاوز کر گیا ہو ، لیکن قدرِ درہم سے کم ہو تو فقط ٹِشو سے صاف کر کے نماز پڑھنا جائز ہے ، لیکن جب نجاست قدرِ درہم یا اس سے زائد ، موضعِ مخرج سے تجاوز کر جائے تو بغیر عذر پانی سے استنجاء نہ کرنا مکروہِ تحریمی ہے ،جبکہ اس سے کم ہو تو مکروہِ تنزیہی ہے ، لہٰذا جب پاک و صاف پانی موجود ہو تو بہرصورت پانی سے استنجاء کرنا چاہیۓ اور جب پانی موجود ہی نہ ہو ، یا کوئی مجبوری ہو تو ٹشو سے استنجاء کر کے نماز پڑھنا بھی درست ہے۔
فی الفقه الإسلامي و أدلته : يكون الاستنجاء بالماء أوبالحجر و نحوه من كل جامد طاهر قالع غير محترم ، كورق و خرق و خشب و خزف ، لحصول الغرض به كالحجر . و الأفضل الجمع بين الجامد و الماء ، فيقدم الورق و نحوه ، ثم يتبعه بالماء ، لأن عين النجاسة تزول بالورق أو الحجر ، و الأثر يزول بالماء اھ (1/ 347)۔
و فی الدر المختار : بنحو حجر منق و ليس العدد بمسنون فيه و الغسل بعده بلا كشف عورة سنة و يجب إن جاوز المخرج نجس فيما وراء موضع الاستنجاء اھ (1/ 337)۔