السلام علیکم مفتی صاحب! مجھے سوتے ہوئے اکثر قطر ے گر جاتے ہیں ، اور اللہ کے کرم سے نماز بھی پڑھتا ہوں ، تو جو کپڑے میں پہن کر سوتا ہوں ، وہی کپڑے میں نماز کےلۓ بھی استعمال کرتا ہوں اور مجھے صبح جلدی جاب پے جانا ہوتا ہے ، تو غسل تو کر لیتا ہوں ، پر ناپاک کپڑے صرف ایک بار نچوڑتا ہوں اور پہن لیتا ہوں ، تو اس سلسلے میں آپ کے مدد کی ضرورت ہے۔
نیند کی حالت میں پیشاب کے قطرے ہی نکلتے ہوں ، احتلام نہ ہوتا ہو ، تو اس پر غسل واجب نہیں ، البتہ وضو کر کے صرف جسم اور کپڑوں کے جس حصے میں پیشاب لگ جائے اس کا دھونا کافی ہے،اب اگر سائل کو کپڑے کے اس حصے کو دھو کر صرف ایک مرتبہ نچوڑنے سے پاک ہونے کا اطمینان ہوجاتا ہو ،تو اگرچہ یہ بھی درست ہے، مگر تین مرتبہ دھوکر نچوڑنا بہتر اور محتاط عمل ہے۔
و فی الدر المختار : (و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا و إلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى . الخ و فی حاشية ابن عابدين : (قوله : بلا عدد به يفتى) كذا في المنية . و ظاهره أنه لو غلب على ظنه زوالهما بمرة أجزأه و به صرح الإمام الكرخي في مختصره و اختاره الإمام الإسبيجابي . (1/ 331)۔