اگر ایک مسلم بندہ غیر مسلم کے ساتھ ایک گھر میں رہتاہو، اور ان ہی برتنوں میں کھاتا ہو ،جن میں غیر مسلم بھی کھاتے ہوں، تو یہ شریعت کے لحاظ سے کیساہے؟ جبکہ غیر مسلم کبھی کبھی حرام چیزیں پکا کے کھاتے ہوں ،ایسے میں کیا مسلم کو اپنے برتن الگ کرلینے چاہیے؟
غیر مسلموں کے برتنوں کو دھوکر پاک صاف کرکے ان میں کھانا جائز ہے لیکن اس کو مستقل عادت بنالینا مکروہ ہے اس سے احتراز چاہیے لہٰذا مسلمان شخص کو چاہیے کہ اپنے کھانے پینے کے برتن علیحدہ رکھے۔
کما فی الهندیة: قال محمد رحمه اللہ: ویکره الأکل والشرب فی أوانی المشرکین قبل الغسل ومع هذا لو أکل أو شرب فیها قبل الغسل جاز ولا یکون آکلًا ولا شاربًا حرامًا وهذا إذا لم یعلم بنجاسة الأوانی فأما إذا علم فإنه لا یجوز أن یشرب ویأکل منها قبل الغسل، ولو شرب أو أکل کان شاربًا وآکلًا حرامًا (۵/ ۳۴۷)