نجاسات اور پاکی

پاک بدن پر ناپاک کپڑے پہننے سے غسل کرنا پڑے گا ؟

فتوی نمبر :
18972
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پاک بدن پر ناپاک کپڑے پہننے سے غسل کرنا پڑے گا ؟

اگر بدن پاک ہو اور ناپاک کپڑے پہن لیے جائیں تو کیا غسل کرنا پڑے گا؟ اور پاک ہونے کا کیا طریقہ ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر بدن اور کپڑا دونوں بالکل خشک ہوں تو ناپاک کپڑا پہننے سے بدن ناپاک نہیں ہوتا، جبکہ بدن یا کپڑا گیلا ہونے کی صورت میں اگر کپڑے پر لگی نجاست کا اثر بدن پر منتقل ہوجائے، تو متعلقہ جگہ کا دھونا کافی ہے، غسل کرنے کی اس صورت میں بھی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: نام او مشی علی نجاسة إن ظهر عینها تنجس وإلا لا، ولو وقعت فی نهر فأصاب ثوبه، إن ظهر أثرها تنجس وإلا لا، لفأ طاهر فی نجس مبتل بماء إن بحیث لو عصر قطر تنجس وإلا لا. (ج۱، ص۳۴۶)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
صبغت اللہ میر عالم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 18972کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات