مجھے بواسیر کی شکایت ہے اور اس کی وجہ سے اکثر مجھے پاکی کا بڑا مسئلہ رہتا ہے،معلوم یہ کرنا ہے کہ میں جب لیٹرین جاتا ہوں تو حاجت رفع کرنے کے بعد گوشت کا کچھ ٹکڑا سوراخ سے باہر آجاتا ہے ،جسے میں دبا کر اندر کر لیتا ہوں،جس کی وجہ سے مجھے قطرے آجاتے ہیں ،بعض دفعہ نہیں آتے اور جب وضو کرنا شروع کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ کچھ پیشاب کی نالی سے نکل رہا ہے، میں بہت پریشان ہوں اور چاہتا ہوں کہ ایک وضو سے زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھ سکوں، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ مجھے غسل کرنا پڑے گا، یا صرف دوبارہ وضو کرنا ہوگا ؟ مزید یہ کہ میں زیادہ سے زیادہ اس بیماری کے ساتھ ایک وضو میں ایک سے زیادہ نمازیں کیسے پڑھوں ؟
پیشاب کے قطرے نکلنے کی بیماری اگر مسلسل نہ ہو تو اس کی وجہ سے ہر مرتبہ سائل پر دوبارہ وضو کرنا لازم ہوگا، جبکہ وضو کے دوران اگر سائل کو صرف یہ محسوس ہوتا ہو کہ پیشاب کی نالی سے کچھ نکل رہا ہے تو جب تک قطرے نکلنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہوجائے سائل کو چاہیئے کہ وضو جاری رکھے اور محض شک کی وجہ سے وضو کو ترک نہ کرے، اور اس ایک وضو سے جب تک وہ برقرار ہو جتنی نمازیں پڑھنا میسر ہوں پڑھ لیا کرے، مزید بہتری کے لئے علاج کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرے۔
کما فی الدر المختار: ولو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن اھ (1/151)۔