مجھے احتلام اور جریان کی شکایت ہے:
(۱) ایک عجیب مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھار رات کو نیم بے ہوشی جیسی حالت میں بستر پر اُلٹا ہوکر آگے پیچھے ہلتا ہوں، یہاں تک کہ منی نکل جاتی ہے (میرا اپنے اوپر کوئی اختیار نہیں ہوتا) اس کا کوئی حل بتادیں۔
(۲) اگر ناپاک شلوار کا صرف وہ حصہ اچھی طرح دھولیا جائے جہاں منی لگی ہو ، تو کیا شلوار پاک ہوجائے گی؟
(۳) احتلام کی وجہ سے بستر اور چادر بھی ناپاک ہوجاتے ہیں ، لیکن یہ نہیں نظر آتا کہ ناپاکی کہاں لگی ہے تو اس صورت میں کیا کیا جائے؟
(۴) اگر منی سے ناپاک کپڑے واشنگ مشین میں اور دوسرے کپڑوں کے ساتھ ڈال کر دھو دیے جائیں تو کیسا ہے؟
(۱) سائل کو چاہیۓ کہ جلد سے جلد شادی کا انتظام کرے ، تاکہ وہ گناہوں سے بچ سکے ، جب تک شادی کا انتظام نہیں ہوتا ، اس وقت تک روزہ رکھ کر اور گرم چیزوں کے کھانےسے پرہیز کے ساتھ اپنی شہوت کو قابو میں رکھنے کا اہتمام کرے ، اور احتلام و جریان کیلۓ کسی ماہر ڈاکٹر اور حکیم سے رجوع بھی کرے۔
(۲ ، ۳) کپڑے کے جس حصے میں یا بستر میں منی لگی ہو ، اس کو دھونے سے وہ کپڑا اور بستر پاک ہوجاتا ہے ، اور جہاں کپڑے میں منی لگنے کا محض شبہ ہو ، تو اس شبہ کی وجہ سے کپڑا ناپاک شمار نہیں ہوتا۔
(۴) ناپاک کپڑے کو پاک کپڑوں کے ساتھ ملاکر واشنگ مشین میں ڈالنے سے تمام کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں ، اس لۓ ان تمام کپڑوں کو پاک پانی سے پاک کرنے کا اہتمام کرنا لازم ہے۔
فی مشكوٰة المصابیح : عن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله ﷺ یا معشر الشباب من استطاع منكم الباءةَ فلیتزوَّج فانه اغض للبصر و احصن للفرج و من لم یستطع فعلیه بالصوم فانه له وجاءٌ اھ (2/275)۔
و فی الدر المختار : (و یطهر منی) ای محله (یابس بفرك) و لا یضر بقاء أثره (ان طهر رأس حشفة) (الی قوله) (الا) یكن یابسا او لا رأسها طاهرا (فیغسل) كسائر النجاسات اھ(1/313)۔
و فی رد المحتار : تحت (قوله و لو شك) من شك فی إناثه أو ثوبه أو بدنه أصابته نجاسة اولا فهو طاهر مالم یستیقن اھ (1/151)۔