السلام علیکم ! میری عمر 18 سال ہے اور میرا مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی میں نماز کے لئے استنجاء کرتا ہوں تو استنجاء کرنے کے بعد جب باہر آتا ہوں تو اس وقت یہ ہوتا ہے کہ 20۔25 منٹ تک ہلکا سا بھی زور لگے مثلاً وضوکرنے کے دوران جو مشقت ہوتی ہے یا نماز کے دوران ، تو میرے عضو تناسل کے سرے پر باریک سا پیشاب کا قطرہ ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے،اس کی مقدار بے حد کم ہوتی ہے اور زیادہ تو وہ عضو تناسل کے سرے پر ہی خشک ہوجاتا ہے یا بعض دفعہ باہر آجاتا ہے،لیکن اس کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ مجھے نظرہی نہیں آتاکہ وہ میری شلوار پر کس جگہ لگا ہے اور صرف ایک ہی باریک سا قطرہ نکلتا ہے یہ کبھی وضو کے دوران نکلتا ہے یا نماز میں سجدے کے دوران،لیکن صرف ایک اور باریک سا اگر بیس منٹ تک آرام سے بیٹھ جاؤں اور کچھ بھی نہ کروں تو یہ حالت بیس منٹ کے بعد ٹھیک ہوجاتی ہے،لیکن مجھے پھر بھی شک رہتا ہے کہ کوئی باریک سا قطرہ نکل گیا ہو، میری یہ حالت صرف استنجاء کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے،اگر استنجاء نہ کروں تو بلکل ٹھیک رہتا ہوں، اب میں کیا کروں؟ میں بہت پریشان ہوں،کیا میرا وضو ہوجاتا ہے؟ کیا میری نماز ہوجاتی ہے؟ میں بہت ڈرا رہتا ہوں کہ پتہ نہیں کہ اللہ میری نماز قبول کرتا ہوگا یا نہیں، آپ ہی میری رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟
سائل کو چاہیئے کہ پیشاب کے بعد اچھی طرح قطروں سے اطمینان کرلے، جب مکمل اطمینان ہوجائے تو کسی چھوٹے پاک کپڑے سے مواضع استنجاء کو پونچھ لیا کرے اور اس کے بعد وضو کرکے نماز پڑھے، ورنہ اگر وضو کے بعد قطرے نکلیں،اگرچہ معمولی ہوں، تب بھی وضو ٹوٹ جائے گا اور اس طرح پڑھی گئی نماز بھی ادا نہ ہوگی۔
کما فی الرد المختار: إن على وجه السنة بأن أرخى انتقض وإلا لا.
وفی رد المحتار: (قوله: بأن أرخى إلخ) (الی قوله) فاذا استیقن بانقطاع اثر البول (الیٰ قوله) ثم يقوم وينشف فرجه بخرقة نظيفة، فإن لم تكن معه يمسح بيده مرارا حتى لا تبقى إلا بلة يسيرة اھ (1/345)۔