نجاسات اور پاکی

کپڑا دھونے کے باوجود نشان رہ جانےسےپاکی وناپاکی کامسئلہ

فتوی نمبر :
29926
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کپڑا دھونے کے باوجود نشان رہ جانےسےپاکی وناپاکی کامسئلہ

میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ اگر کپڑوں پر پاخانہ لگ جائے اور اس کو نل کے نیچے دھو لیا جائے بغیر رگڑے ،اس کے بعد نجاست کا کچھ حصہ یا اثر اور رنگ رہ جائے، تو کیا کپڑا ناپاک ہوگا یا پاک ؟
مفتی صاحب جلدی جواب دیجئے گا میرے ای میل پر ، مجھے اس بارے میں مختلف وساوس آتے ہیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کپڑوں پر پاخانہ لگنے کی صورت میں پانی سے دھونے اور زائل کرنے کے بعد اگر کپڑوں کو مل لیا جائے اور پانی بہایا جائے، پھر بھی اس کا نشان رہ جائے تو اس میں مضائقہ نہیں، کپڑا پاک ہوجائےگا۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر: (وكذا يطهر محل نجاسة) أما عينها فلا تقبل الطهارة (مرئية) بعد جفاف كدم (بقلعها) أي: بزوال عينها وأثرها ولو بمرة أو بما فوق ثلاث في الأصح (الٰی قوله) (ولا يضر بقاء أثر) كلون وريح (لازم) فلا يكلف في إزالته إلى ماء حار أو صابون ونحوه، بل يطهر ما صبغ أو خضب بنجس بغسله ثلاثا والأولى غسله. (1/ 328) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعیدالرحمن عزیز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 29926کی تصدیق کریں
0     294
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات