اگر پانی کی ٹینکی میں کوئی پیشاب کردے اور اس پانی کو روزانہ استعمال کریں اور جب اس پانی کی ٹینکی میں پانی تھوڑا رہ جائے تو اس میں اور پاک پانی ڈال دے اور ٹینکی کے پانی کا نہ کوئی بو ، رنگ اور ذائقہ تبدیل ہو تو اس طرح ٹینکی کا پانی پاک رہے گا یا ناپاک؟ شکریہ۔
سائل نے پانی کی مقدار اور ٹینکی کی کیفیت نہیں لکھی ، بہر کیف اگر پانی تھوڑا ہو تو مزید پانی ڈالنے کے باوجود بھی پانی ناپاک ہی رہے گا۔
کما فی الدر المختار : (اذا وقعت نجاسة) لیست بحیوان و لو مخففة أ قطرة بول أو دم (الیٰ قوله) (فی بئر دون القدر الکثیر) علیٰ مامر (الیٰ قوله) ینزح کل مائھا اھ(1/212)۔
و فی بدائع الصنائع : ولو وقع فی ھذا القلیل نجاسة ثم عاودہ الماء حتیٰ امتلأ الحوض و لم یخرج منه شیئ قال أبو القاسم الصفار لایجوز التوضؤ به لأنه کلما دخل الماء فیه صار نجساً اھ (1/72)۔
و فی الفتاوی الھندیة : فان ادخل رجل یدہ فی الحوض و علیھا نجاسة ان کان الماء ساکنا لایدخل فیه شیئ من انبوبه و لایغترف منه انسان بالقصعة یتنجس اھ (1/18)۔