کیا فرماتے ہیں مفتیا نِ کرام مسئلۂ ہذا کے بارے میں کہ بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ داڑھی کے بال اگر اکھیڑے جائیں تو ان کے سرے ناپاک ہوتے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ وضو کے بعد جب داڑھی پر کنگھی پھیریں تو کچھ بال ٹوٹ جاتے ہیں اور ان کےسرے سفید ہوتے ہیں تو کیا اب کنگھا ناپاک ہوگیا ؟ اور داڑھی بھی ، یا نہیں؟ اور کیا داڑھی کے ٹوٹے بال کہیں بھی پھینکے جاسکتے ہیں یا جیب میں رکھے جاسکتے ہیں ؟ مہربانی فرما کر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
اول تو بالو ں کے سروں پر جو سفیدی وچکنائی ہوتی ہے،اس کا کنگھی اور داڑھی کو لگنا یقینی نہیں اور اگر لگ بھی جائے تو وہ بہت کم مقدار ہوتی ہے جو کہ شرعاً معاف ہے لہذا اس سے نہ کنگھا ناپاک ہوتا ہے اور نہ ہی داڑھی ،جبکہ داڑھی کے بال ہو ں یا سر کے تمام بالوں کو دفن کردینا بہتر ہے،کیونکہ یہ انسانی بدن کا حصہ ہیں، ہاں اگر دفن نہ کرے تو کسی محفوظ جگہ ڈال دیں۔
کما فی الدر المختار: (وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل (الیٰ قوله) (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) اھ (1/316)۔
وفی رد المحتار: فإذا قلم أظفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفنه فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره لأنه يورث داء خانية اھ (6/405)۔