نجاسات اور پاکی

پیشاب کے قطروں کی بیماری سے معذور شخص کے احکامات

فتوی نمبر :
3171
| تاریخ :
2007-06-14
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پیشاب کے قطروں کی بیماری سے معذور شخص کے احکامات

مجھے پیشاب کے قطرے آتے ہیں ، بہت پریشانی ہے ، پیشاب کرنے کے بعد اکثر نماز کے دوران قطرے آتے ہیں ، برائے مہربانی شریعت کے حوالہ سے بتائیں کہ کیا میری نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو اگر مذکور بیماری کی وجہ سے کسی بھی ایک نماز کے پورے وقت (مثلاً ظہر کیلئے آج کل پونے ایک بجے سے لیکر سوا پانچ بجے تک) اتنا وقت نہ ملتا ہو جس میں وہ مکمل طہارت کے ساتھ صرف ظہر کے فرض ادا کرسکے مثلاً ’’دس پندرہ منٹ‘‘ اس صورت میں وہ شرعاً معذور ہے اور اس کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ ظہر کی نماز اخیر وقت میں وضو کرکے ادا کرے اور پھر عصر کے وقت اگر یہ عذر باقی ہو تو بوقتِ نماز وضو کرکے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلے، اب اگر دورانِ نماز بھی اس سے پیشاب کے قطرے نکل جائیں تو اس سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا بلکہ دیگر نواقضِ وضو کے ظاہر ہونے سے ٹوٹے گا ، وہ ہر نماز کیلئے اس طرح نیا وضو کرلیا کرے پھر اگر کوئی ایک نماز کا پورا وقت ایسا گزر جائے کہ اس دوران ایک دفعہ بھی مذکور عذر اسے لاحق نہ ہو تو وہ شرعاً معذور بھی نہ رہے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی الدر : و صاحب العذر من به سلسل بول لا یُمكنه امساكه (الٰی قوله) ان استوعب عذره تمام وقت صلوٰة مفروضة بان لا یجد فی جمیع وقتها زمنًا یتوضؤ و یصلی فیه خالیا عند الحدث. الخ و فیہ ایضًا : و حكمه الوضؤ لا غسل ثوبه و نحوه لكل فرضٍ . اهـ (ج۱، ص۳۰۵)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 3171کی تصدیق کریں
0     864
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات