نجاسات اور پاکی

تر جسم ناپاک چیز کے ساتھ لگ جانے سے غسل کا حکم

فتوی نمبر :
32253
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

تر جسم ناپاک چیز کے ساتھ لگ جانے سے غسل کا حکم

اگر غلطی سے نہا کر ایسے کپڑے پہن لیے جائیں جو پورے ناپاک ہوں ، تو کیا صرف کپڑوں کو پاک کرنا ہوگا یا جن چیزوں کو ہاتھ لگایا گیا ہے ، ان کو بھی پاک کرنا ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ نے نجاست کی تفصیل نہیں لکھی کہ کیا تھی ؟ اور خشک تھی یا تر؟ بہر کیف اگر کپڑا خشک تھا تو اس کو پہننے سے بدن ناپاک نہیں ہوا ، بلکہ بدستور پاک ہے ، اس کو یا جن چیزوں کو اس نے ہاتھ لگایا ان کو پاک کرنے کی ضرورت نہیں اور اگر نجاست تر اور گیلی ہو اور بدن پر اس کا اثر ظاہر ہو تو بدن ناپاک شمار ہوگا اور دھونا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندية : إذا لف الثوب النجس في الثوب الطاهر والنجس رطب فظهرت نداوته في الثوب الطاهر لكن لم يصر رطبا بحيث لو عصر يسيل منه شيء و لا يتقاطر فالأصح أنه لا يصير نجسا ‬‎‬‬(الیٰ قوله) و لو وضع رجله المبلولة على أرض نجسة أو بساط نجس لا يتنجس وإن وضعها جافة على بساط نجس رطب إن ابتلت
تنجست و لا تعتبر النداوة هو المختار كذا في السراج الوهاج ناقلا عن الفتاوی اھ(1/47)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 32253کی تصدیق کریں
0     1207
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات