اگر غلطی سے نہا کر ایسے کپڑے پہن لیے جائیں جو پورے ناپاک ہوں ، تو کیا صرف کپڑوں کو پاک کرنا ہوگا یا جن چیزوں کو ہاتھ لگایا گیا ہے ، ان کو بھی پاک کرنا ہوگا؟
سائلہ نے نجاست کی تفصیل نہیں لکھی کہ کیا تھی ؟ اور خشک تھی یا تر؟ بہر کیف اگر کپڑا خشک تھا تو اس کو پہننے سے بدن ناپاک نہیں ہوا ، بلکہ بدستور پاک ہے ، اس کو یا جن چیزوں کو اس نے ہاتھ لگایا ان کو پاک کرنے کی ضرورت نہیں اور اگر نجاست تر اور گیلی ہو اور بدن پر اس کا اثر ظاہر ہو تو بدن ناپاک شمار ہوگا اور دھونا لازم ہوگا۔
کما فی الفتاوی الھندية : إذا لف الثوب النجس في الثوب الطاهر والنجس رطب فظهرت نداوته في الثوب الطاهر لكن لم يصر رطبا بحيث لو عصر يسيل منه شيء و لا يتقاطر فالأصح أنه لا يصير نجسا (الیٰ قوله) و لو وضع رجله المبلولة على أرض نجسة أو بساط نجس لا يتنجس وإن وضعها جافة على بساط نجس رطب إن ابتلت
تنجست و لا تعتبر النداوة هو المختار كذا في السراج الوهاج ناقلا عن الفتاوی اھ(1/47)۔