1۔کیا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہے کہ نہیں بوقت ضرورت؟ مطلب پینٹ وغیرہ پہنا ہو اور بیٹھنے کی گنجائش نہ ہو ؟ 2۔جب کسی کے والد صاحب کا انتقال ہو جائے تو کیا اس کے سب بیٹوں پر عید الاضحی کی قربانی کرنا واجب ہو جاتی ہے ، جتنے بیٹے ہیں سب کو کرنی چاہیئے؟ 3۔ اور یا مقبول جان نے اپنے ایک پرو گرام میں حدیث شریف سنائی تھی ،جس کا مفہوم یہ ہے کہ سندھ کی تباہی ہند کے ہاتھوں ہو گی اور ہند کی تباہی چین کے ہاتھوں ہو گی ، کیا یہ صحیح حدیث ہے ؟
(1) واضح ہو کہ بغیر کسی عذر کے کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے، جس سے احتراز کرنا چا ہیئے ، البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے بیٹھنا دشوار ہو تو کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
(2) بیٹے اگر صاحبِ نصاب اور مالدار ہوں تو والد کی زندگی اور اس کی وفات کے بعد بیٹوں پر اپنی قربانی کرنا واجب ہے ، ورنہ دونوں صورتوں میں بیٹوں پر قربانی واجب نہیں۔
تلاش بسیار کے باوجود ہمیں مذکور حدیث مستند کتبِ احادیث میں نہیں مل سکی۔
کما فی سنن الترمذی : عن عائشة ، قالت : من حدثکم أن النبی ﷺ کان یبول قائماً فلاتصدقوہ ، ماکان یبول الا قاعداً اھ(1/62)۔
و فی الدر المختار : (و كذا يكره) هذه تعم التحريمية و التنزيهية (الیٰ قوله) (و أن يبول قائما أو مضطجعا أو مجردا من ثوبه بلا عذر اھ (1/344)۔
و فی الفتاوی الھندیة : و يكره أن يبول قائما أو مضطجعا أو متجردا عن ثوبه من غير عذر فإن كان بعذر فلا بأس به اھ (1/50)۔
و فی الھدایة : الأضحیة واجبة علیٰ کل حر مسلم مقیم موسر فی یوم الأضحی عن نفسه و عن ولدہ الصغار اھ (3/44)۔