السلام علیکم مفتی صاحب میں الحمدللہ پانچ وقت نماز پڑھتاہوں، میرے ساتھ پیشاب کے قطروں اور گیس کا مسئلہ ہے اگرچہ گیس بہت زیادہ نکلتی ہے لیکن شرعی معذور نہیں کہا جاسکتا اور پیشاب کرنے کے بعد دو دو تین تین گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ دیر تک پیشاب کے قطرے نکلتے رہتے ہیں، ہر تھوڑی دیر بعد دباکر چیک کرتاہوں تو قطرہ موجود ہوتاہے، گیس کی وجہ سے واش روم جانا بھی پڑتا ہے، کیا اس حوالے سے شریعت نے مجھے کوئی آسانی عطا کی ہے؟
سائل کو چاہیے کہ زیادہ شک میں نہ پڑے اس طور پر کہ بار بار چیک کرتا رہے، بلکہ نماز سے اتنی دیر پہلے فراغت حاصل کرلیا کرے کہ قطرہ رسنا بند ہوجانے کا گمان غالب ہوجائے اور اس دوران اگرچہ جماعت کے ساتھ نہ ہو تو تنہا اپنی نماز ادا کیا کرے۔
کما فی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.(1/ 305) واللہ اعلم