کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ موٹر سائیکل پر آتے ہوئے راستے میں روڈ پر جو گٹر وغیرہ کے پانی کے کھڑا ہونے کی وجہ سے جو چھینٹے پڑتے ہیں ، ان کا شرعی حکم کیا ہے ؟ کیا ان کے پڑنے سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں یا نہیں؟آیا ان میں نماز ہو جاتی ہے یا نہیں ؟ براہِ کرم وضاحت فرمادیں؟
راستے میں چلتے ہوئے جو ناپاک پانی کی چھینٹیں کپڑوں پر لگ جاتی ہیں ، اگر وہ قدرِ درہم یا اس سے کم ہوں اور نظر بھی نہ آتی ہوں ، تو ایسے کپڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور درست ہے ، لیکن اگر چھینٹیں نظر آتی ہوں تو ان کو دھونا لازم ہے ، تاہم اگر یہ چھینٹیں قدرِ درہم سے زائد ہوں تو ان کو دھوئے بغیر ان کپڑوں میں نماز پڑھنا کسی طرح درست نہیں ۔
کما فی رد المحتار : تحت و الحاصل أن الذي ينبغي أنه حيث كان العفو للضرورة و عدم إمكان الاحتراز أن يقال بالعفو و إن غلبتالنجاسة ما لم ير عينها لو أصابه بلا قصد و كان ممن يذهب و يجيء و إلا فلا ضرورة اھ (1/324)۔
و فی الفتاوی الھندیة : المغلظة و عفی منھا قدر الدرھم (الیٰ قوله) و ھو قدر عرض الکف اھ (1/45)۔