نجاسات اور پاکی

خیالات کی وجہ سے نکلنے والے پانی کا حکم

فتوی نمبر :
35120
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

خیالات کی وجہ سے نکلنے والے پانی کا حکم

مشترکہ خاندانی رہن سہن ، چھوٹا گھراور شوہر کا گھر سے دور رہنے کی وجہ سے میاں بیوی کا آپس میں تواتر سے میلاپ مشکل ہوتا ہے ، اس وجہ سے اکثر جب شہوت کا غلبہ بڑھ جاتا ہے تو کپڑے خراب ہوجاتے ہیں ، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار دھونے کے باوجود بھی رطوبت رستی رہتی ہے ، یہ عمل حاجت پوری ہونے تک جاری رہتی ہے اور وضو باقی نہیں رہتا ، جس کی وجہ سے نماز مکمل کرنا بھی مشکل ہوتا ہے ، اکثر اسی عمل میں نماز ضائع ہوجاتی ہے ، یہ فطری عمل ہے اور کنٹرول مشکل ہے ، ایسی صورت میں پاکی برقرار رکھنے کے لئے کیا کیا جائے؟ نیز نماز کیسے مکمل کی جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے جو صورت لکھی ہے ، وہ اپنے خیالات کو کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ، اگر سائل اپنے خیالات کو قابو میں کرلے تو شاہد یہ صورت پیش نہ آئے ، بلکہ رطوبت کے بند ہونے کے بعد وضو کرکے نماز پڑھنا سائل کے لئے سہل ہوجائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح مسلم : حدثنا أبو بکر بن أبی شیبة ، حدثنا وکیع و أبو معاویة و ھشیم عن الأعمش عن منذر بن یعلیٰ و یکنی أبا یعلی عن ابن الحنفیة عن علی قال : کنت رجلاً مذاء و کنت استحیی أن أسأل النبی ﷺ لمکان ابنته فأمرت المقداد بن الأسود فسأله فقال : یغسل ذکرہ و یتوضأ (ص/247)۔
و فی الفتاوی الھندیة : (و مما يتصل بذلك أحكام المعذور) شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا و هو الأظهر كالانقطاع لا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله اھ (1/40)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35120کی تصدیق کریں
0     1464
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات