نجاسات اور پاکی

ہاتھوں کو پاک کرنے کے لئے تسمیہ کا حکم

فتوی نمبر :
35756
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ہاتھوں کو پاک کرنے کے لئے تسمیہ کا حکم

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ واش روم میں جب رفعِ حاجت کرلیں تو اس کے بعد ہاتھوں کو کیسے پاک کیا جائے ، کیوں کہ ہم واش روم میں کلمہ طیبہ نہیں پڑھ سکتے ہیں ، تو کیا استنجاء کرکے اسی ہاتھ سے ٹراؤزر یا شلوار وغیرہ کو ٹچ کرسکتے ہیں؟ کیوں کہ استنجاء کرنے سے ناپاک ہوجاتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ ہاتھوں کو پاک کرنے کے لئے بسم اللہ یا کوئی اور کلمہ پڑھنا کوئی لازم نہیں ، جبکہ پانی سے استنجاء کرنے کی صورت میں موضع استنجاء کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی پاک ہوجاتے ہیں ، اس لئے اس کے بعد تولیہ ، شلوار وغیرہ کو ہاتھ لگانا بلاشبہ درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و مخرج) دبر أو قبل (بنحو حجر) مما هو عين طاهرة قالعة لا قيمة لها كمدر (منق) ؛ لأنه المقصود ، فيختار الأبلغ و الأسلم عن التلويث و لا يتقيد بإقبال و إدبار شتاء و صيفا (و ليس العدد) ثلاثا (بمسنون فيه) بل مستحب (و الغسل) بالماء إلى أن يقع في قلبه أنه طهر ما لم يكن موسوسا فيقدر بثلاث كما مر اھ (1/338)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35756کی تصدیق کریں
0     997
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات