نجاسات اور پاکی

مذی والے کپڑوں کو دھونے کا حکم

فتوی نمبر :
36594
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

مذی والے کپڑوں کو دھونے کا حکم

مذی جو کپڑوں پہ لگ کر سوکھ جاتی ہے اور نشان باقی نہیں رہتا تو کپڑوں کو کیسے پاک کیا جائے؟ مجھے جہاں شک ہوتا ہے مذی کا، وہاں تین بار پانی بہا کر کپڑا نچوڑ لیا کرتا ہوں ، کیا اس سے کپڑے پاک ہوجاتےہیں؟ کیونکہ واضح نہیں ہوتا کہ کس جگہ پر مذی لگی ہے ، کیا تین بار اچھی طرح پانی نچوڑنے سے کپڑے پاک ہوجاتے ہیں ؟یا دھونا ضروری ہے؟جواب کا منتظر۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذی اگر معمولی مقدار میں لگی ہو اور وہ نظر بھی نہ آتی ہو تو وہ شرعاً معاف ہے ، اس کو دھو کر پاک کرنا لازم نہیں ، البتہ اگر مذی کے نشان نظر آتے ہوں یا وہ قدرِ درہم سے زائد مقدار میں ہو تو اس کو دھو کر پاک کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیة : و إن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات ، كذا في المحيط و يشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر و يبالغ في المرة الثالثة حتى لو عصر بعده لا يسيل منه الماء و يعتبر في كل شخص قوته اھ (1/42)۔
و فی رد المحتار : تحت (قوله : مما يتشرب النجاسة إلخ) حاصله كما في البدائع أن المتنجس إما أن لا يتشرب فيه أجزاء النجاسة أصلا كالأواني المتخذة من الحجر و النحاس و الخزف العتيق أو يتشرب فيه قليلا كالبدن و الخف و النعل أو يتشرب كثيرا ؛ ففي الأول طهارته بزوال عين النجاسة المرئية أو بالعدد على ما مر ؛ و في الثاني كذلك ؛ لأن الماء يستخرج ذلك القليل فيحكم بطهارته و أما في الثالث فإن كان مما يمكن عصره كالثياب فطهارته بالغسل و العصر إلى زوال المرئية و في غيرها بتثليثهما اھ(1/332)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 36594کی تصدیق کریں
0     1235
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات