نجاسات اور پاکی

بیسن سے وضو کرتے وقت پانی کی چھینٹے کپڑے پر لگے تو اس کا حکم

فتوی نمبر :
37376
| تاریخ :
2019-04-06
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بیسن سے وضو کرتے وقت پانی کی چھینٹے کپڑے پر لگے تو اس کا حکم

ہمارے آفس کے اٹیچ باتھ روم میں اسٹاف استنجاء کرکے بیسن سے جلدی جلدی وضو کرلیتے ہیں، جب کہ بیسن سے وضو کرتے وقت اوپر سے پانی گر کر چپل پر پائنچوں پر چھینٹے گر جاتے ہیں، میں جب اندر جاتا ہوں تو باتھ روم پانی سے تَر ہوتا ہے، بعض ایک جگہ پانی بھی کھڑا ہوتا ہے، سارا باتھ روم دھونے میں بہت وقت لگتا ہے، لوگ زیادہ وقت لگانے کی شکایت کرتے ہیں، کیا اوپر سے چھینٹے پڑنے سے کپڑے پلید تو نہیں ہوں گے؟
یہی مسئلہ اکثر ہوٹلوں کے واش روم میں بھی ہوتا ہے، ٹھیک واشروم کے باہر بیسن ہوتا ہے لوگ واش روم میں استنجا کرکے بیسن پر وضو کرلیتے ہیں، وضو کا پانی نیچے گر کر چھینٹے اُڑتے ہیں حالانکہ باہر کی جگہ واشروم میں استعمال چپل جوتوں سے ہی تَر ہوجاتی ہے، لوگ وضو کرکے نماز پڑھنے لگتے ہیں، اور میں اس سوچ میں ہوتا ہوں کہ وضو کروں یا نہیں؟ کپڑے پلید ہوجائیں گے، دماغ پریشان رہتا ہے، کبھی کبھی کموڈ صاف کرنے والا برش بھی نظر آجاتا ہے، اسی طرح اپنے کمرے کے اٹیچ باتھ روم کو بچے استعمال کرکے استنجا کرکے چپل سے فرش کو تَر کردیتے ہیں چھوٹا بیٹا بغیر چپل کے اس تَر فرش پر پِھر کر کبھی جائے نماز پر اُتر جاتا ہے کبھی دری پر چڑھتا ہے کیا اس سے تو یہ چیزیں پلید نہیں ہوں گی؟ برائے کرم رہنمائی فرماکر سائل کو شکریہ اور دعا کا موقع دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بیسن سے وضو کرنے میں کپڑے پر پاک پانی کے جو چھینٹے پڑتے ہیں ان سے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، اسی طرح واش روم سے نکلنے کے بعد اگر پاؤں پر کوئی ناپاکی نہ ہو ، بلکہ پانی کی تَری لگی ہوئی ہو ، تو اس کی وجہ سے بھی قالین یا جائے نماز پر چلنے کی وجہ سے وہ ناپاک نہ ہوں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی التنویر: (أو استعمل لقربة أو رفع حدث أو إسقاط فرض إذا انفصل عن عضو وإن لم یستقر وهو طاهر ولیس بطهور). اهـ (٢٠١/١) والله اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فروخ عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 37376کی تصدیق کریں
1     1537
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات