جنابِ عالی! میں اپنی چند گذارشات آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں، ان کا جواب فتویٰ کی صورت میں قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائے، ساتھ ہی قرآن کی جس آیت اور حدیث کا حوالہ دیا جائے اس کا ترجمہ بھی لکھا جائے۔
(۱) میں عرصہ تین سال سے سپائنل ٹیومر سرجری کی وجہ سے مفلوج ہوں اور بستر پر ہوں، مجھے پیشاب قدرتی راستہ سے نہیں آتا اور زیر ناف پیشاب کی نالی لگائی گئی ہے، جس کے ذریعہ پیشاب بیگ میں جاتا ہے اور بیگ بھرنے پر خالی کردیا جاتا ہے، اور میں پیمپر استعمال کرتا ہوں، کبھی کبھار نالی بند ہوجانے یا کسی اور وجہ سے پیشاب پیمپر سے خارج ہوجاتا ہے اور پتہ نہیں چلتا، اس وقت پتہ چلتا ہے جب یہ پیمپر سے باہر پھیلتا ہے، لیکن وہ بھی اس وقت جب اچانک شلوار وغیرہ کو ہاتھ لگ جائے اور گیلا پن محسوس ہو ، میں ساتھ ساتھ چیک کرنے کی کوشش کرتارہتا ہوں، لیکن پھر بھی بعض دفعہ پتہ نہیں چلتا، اس دوران میں تیمم کرکے کچھ نمازیں ادا کرچکا ہوتا ہوں، مجھے ضرورت کے وقت دو آدمیوں کی مدد چاہیئے ہوتی ہے، جو مجھے اُٹھاکر باتھ روم میں لے جاتے ہیں، اور میں غسل کرتا ہوں اور میں مَری کے ٹھنڈے علاقے میں رہتا ہوں، بار بار غسل کرنا ناممکن ہے، کیونکہ غسل کے بعد بہت شدت کی سردی لگتی ہے۔
کیا اس صورت میں میری ادا کردہ نماز ہوجاتی ہے؟ یا پھر لوٹانی ہوگی؟ کیونکہ میں بیڈ پر لیٹے لیٹے بڑی مشکل سے نماز ادا کرتا ہوں، کیا میں غسل کرنے کی بجائے گیلے تولیہ سے صاف کرکے نماز ادا کرسکتا ہوں؟
(۲) اس کے علاوہ مجھے پاخانہ بھی قدرتی طریقہ سے نہیں آتا، تین یا چار دن بعد دوائی استعمال کرنے سے آتا ہے، پاخانہ بھی پیمپر میں آتا ہے، اور وہ بھی بدبو آنے سے پتہ چلتا ہے، پھر دو آدمیوں کی مدد سے باتھ روم میں لے جاکر غسل کرکے دوبارہ پیمپر پہنتا ہوں، اور اس کے بعد بعض اوقات کبھی تھوڑا سا پاخانہ پیمپر میں نکل آتا ہے، اور بعض دفعہ پاخانہ ایک داغ / دھبہ کی صورت میں پیمپر پر لگ جاتا ہے، دونوں صورتوں میں اگر بدبو آجائے تو اسی وقت غسل کرتا ہوں، اس سے پہلے بھی میں کچھ نمازیں ادا کرچکا ہوں، نیند میں بالکل پتہ نہیں چلتا۔
کیا اس صورت میں میری ادا کردہ نماز ہوجاتی ہے یا پھر لوٹانی ہوگی کیونکہ میں بیڈ پر لیٹے لیٹے بڑی مشکل سے نماز ادا کرتا ہوں؟ کیا میں غسل کرنے کے بجائے گیلے تولیہ سے صاف کرکے نماز ادا کرسکتا ہوں؟
(۳) اس کے علاوہ جب پاخانہ آنے کی صورت میں دو آدمی غسل کرنے سے پہلے کموڈ پر بٹھاتے ہیں، چونکہ پاخانہ کا مکمل اخراج نہیں ہوتا لہٰذا پاخانہ نکالنے کیلئے مجھے ہاتھ کی انگلیاں ڈال کر پاخانہ نکالنا پڑتا ہے، ماہِ رمضان میں اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر میں ایسا نہ کروں تو پاخانہ دوبارہ خارج ہوجاتا ہے پھر غسل کرنا پڑتا ہے۔
سائل کے سوالوں کے جوابات ذیل میں ترتیب وار ذکر کیے جاتے ہیں:
(۱) مذکور صورت میں پیشاب یا پاخانہ نکلنے کی صورت میں ہر بار غسل کرنا کوئی لازم نہیں، بلکہ اس مقام کو دھولینا یا اگر اس میں مشقت ہو تو ٹشو یا کسی کپڑے وغیرہ سے اچھی طرح صاف کرلینا کہ نجاست کا اثر نہ رہے، کافی ہے۔
(۲) اگر کچھ نمازیں پڑھ لینے کے بعد معلوم ہو کہ نجاست پہلے ہی نکلی ہوئی تھی اور اس نے نجاست کے ہوتے ہوئے نماز پڑھ لی ہے تو ایسی تمام نمازوں کی قضا لازم ہے۔
(۳) روزہ کی حالت میں پاخانہ کے اخراج کیلئے گیلی انگلی داخل کرنے سے روزہ فاسد ہوجائے گا، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ دن میں اس عمل سے اجتناب کرے، ضرورت ہو تو رات کے اوقات میں جب قضائے حاجت کیلئے جائے تو مذکور طریقے سے پاخانہ کے اخراج کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سائل کو صبر و ہمت عطا فرمائے۔
كما فی الدر : (و ینقضه) خروج كل خارج (نجس) بالفتح و یكسر (منه) أی من المتوضیٔ الحی معتادا أو لا، من السبیلین أو لا (إلی ما یطهر) بالبناء للمفعول : أی بلحقه حكم التطهیر ثم المراد بالخروج من السبیلین مجرد الظهور . اهـ (ج۱، ص۱۳۴)-
و فیه : (یجوز رفع نجاسة حقیقة عن محلها) و لو إناء أو ماكولا علم محلها أو لا (بماء لو مستعملا) به یفتی . اهـ (ج۱، ص۳۰۹)-
كما فی المبسوط للشیبانی : قلت فہل یصلی بغیر وضوء و هو یقدر علی الوضوء قال لا قلت فإن فعل فی هذا كله و صلی قال لا یجزیه و علیه أن یعید . اهـ (ج۱، ص۲۲۳)-
و فی الدر : (إذا أكل الصائم أو شرب أو جامع) (إلی قوله) (أو أدخل أصبعه الیابسة فیه) أی دبره أو فرجها و لو مبتلة فسد ، (إلی قوله) و لو بالغ فی الاستنجاء حتی بلغ موضع الحقنة فسد . اهـ (ج۲، ص۳۹۷)-