میں آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب میں پیشاب کرنے جاتا ہوں تو دورانِ پیشاب مجھے میرے جسم پر پیشاب کے چند قطروں کا واپس لوٹ کر لگنے کا احساس ہوتا ہے اور پیشاب کے تقاضے سے فراغت کے بعد میں اپنی ٹانگوں کو اور سرین
کو کئی بار دھوتا ہوں ، اس پر مجھے صرف پیشاب کا تقاضہ پورا کرنے پر دس سے پندرہ منٹ لگ جاتے ہیں ، میں ہر وقت ڈبلوسی پر بیٹھنے سے پہلے دھوتا ہوں اور ہر وقت پاؤں دھویا کرتا ہوں ، میں پیشاب کرتے ہوئے بہت احتیاط کرتا ہوں اور اس کے بعد اس بات کی پوری یقین دہانی کرتا ہوں کہ پیشاب کے قطرے میرے کپڑوں یا جسم پر نہیں پڑے ہیں ، کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ واش روم کیسے استعمال کیا جائے۔
سائل کو پیشاب کے قطروں کا جسم یا کپڑوں پر پڑنے ، اسی طرح ڈبلوسی پر نجاست لگنے کا یقین نہ ہو، تو محض شکوک و شبہات کی وجہ سے اس پر اپنا جسم، کپڑے اور بیٹھنے سے پہلے ڈبلوسی دھونا لازم نہیں ، لہذا سائل کو چاہئے جسم یا کپڑوں میں جس جگہ پیشاب کے قطرے لگے ہوں ، اسے دھو کر پاک کرے ، لیکن اگر کہیں پر پیشاب کے قطرے لگنے کا یقین نہ ہو ، تو محض شکوک و شبہات کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
كما في الدر المختار : ( و عفا ) الشارع ( عن قدر درهم ) ( الى قوله) ( و هو مثقال ) عشرون (في ) نجس ( كثيف ) له جرم و عرض مقعر الكف ) (الى قوله) (في رقيق مغلظة كعذرة ( أدمى و كذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء او غسل مغلظ و بول ماكول و لومن صغير لم يطعم ) اھ (318/1).
و في الھندية : و ازالتها ان كانت مرئية بازالة عينها و اثرما ان كانت شيا يزول اثره و لا يعتبر فيه العدد كذا في المحيط فلو زالت عينها بمرة فاكتفى بها نزل بثلاثة تغسل الیٰ ان تزول اهـ (42/1)۔