میں درمیانی عمر کا ہوں اور میں اپنی پانچوں نمازوں کے متعلق متفکر ہوں، بعض اوقات کام کے دوران اپنی شلوار پر قطرے دیکھتا ہوں، کیا مجھ پر واجب ہے کہ تین مرتبہ کپڑے دھولوں اور نماز سے قبل غسل کروں؟ اگر مارکیٹ میں ہوتا ہوں تو وہاں یہ نا ممکن ہے تو کیا کروں؟
فقط قطرے آنے سے تو سائل پر غسل لازم نہ ہوگا، البتہ پیشاب کے قطرے کپڑوں یا بدن کے جس حصہ پر لگے ہوں اور قدر درہم سے زائد ہوں تو نماز سے قبل اس مقام کو دھوکر پاک کرنا ضروری ہے، خواہ سائل گھر میں ہو یا مارکیٹ میں، البتہ اگر قدر درھم سے کم ہوں تو ان کو دھونا اگرچہ ضروری تو نہیں، مگر اسے بھی دھوکر اس سے بدن اور کپڑے کو پاک کرکے نماز پڑھی جائے تو بہتر ہے۔