نجاسات اور پاکی

کیا استنجاء میں شرمگاہ کو ہاتھ لگانا ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
3902
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کیا استنجاء میں شرمگاہ کو ہاتھ لگانا ضروری ہے؟

السلام علیکم! میں آپ سے در اصل استنجاء کے بارے میں جاننا چاہتاہوں کہ: اس کا طریقہ کیا ہے؟ میں جب پیشاب کرتاہوں، تو میں اپنی شرمگاہ تو نہیں چُھوتا، بس تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد اور تھوڑا باڈی کے نیچے حصے کو جھٹکا دینے کے بعد شرمگاہ پر پانی پھینک کر اُٹھ جاتاہوں، اور اس کے بعد وضو کرکے نماز پڑھتاہوں، کیا یہ صحیح ہے؟ کیا شرمگاہ کو ہاتھ لگانا پیشاب کے قت اور استنجاء کے وقت ضروری ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

استنجا ءکے وقت شرمگاہ کو ہاتھ لگانا تو ضروری نہیں، البتہ ازالہ نجاست ضروری ہے، لہٰذا مذکورہ طریقہ سے بھی اگر یہ مقصد حاصل ہوجاتاہے، تو یہ شرعاً بھی درست ہے، اور اس سے پڑھی جانے والی نمازیں بھی درست ادا ہوئی ہیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
نور حبیب شاہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 3902کی تصدیق کریں
0     251
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات