ظہر کا ٹائم بارہ بج کر 19 منٹ پر شروع ہورہاتھا، جمعہ کی دوسری اذان بارہ بج کر چھ منٹ پر دی گئی، خطبہ بارہ بج کرکر اٹھارہ منٹ پرختم ہوا، جماعت کھڑی ہوئی، اور وہاں سےمسجد کی ڈیجیٹل گھڑی نے ظہر کا ٹائم شروع ہونے کا بتایا، کیا جمعے کی نماز ہوگئی؟ جلدی کرنے کی وجہ پوچھی تو مؤذن نے بتایا کہ کھانے کے بعد ڈیوٹی پر جانا ہوتا ہے، اس لئے جلدی کروادی۔
واضح ہو کہ عندالاحناف جمعہ کی صحت کے لئےخطبۂ جمعہ کا ظہر کے کے وقت کے داخل ہونے کے بعد پڑھنا شرط ہے، اور صورتِ مسئولہ میں جمعہ کا خطبہ چونکہ وقت داخل ہونے سے پہلے پڑھا گیا ہے، اس لئے جمعہ کی نماز ادا نہیں ہوئی، چنانچہ اگر وقت کے اندر اعادہ نہ کیا ہو تو اب اس دن کی ظہر کی قضا کرنالازم ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: ومنها الخطبة قبلها حتى لو صلوا بلا خطبة أو خطب قبل الوقت لم يجز، كذا في الكافي الخطبة تشتمل على فرض وسنة فالفرض شيئان الوقت وهو بعد الزوال وقبل الصلاة حتى لو خطب قبل الزوال أو بعد الصلاة لا يجوز، هكذا في العيني شرح الهداية، والثاني ذكر الله تعالى. كذا في البحرالرائق اھـ ( ج ۱ ص ۱۴۶).
و في الهداية: ومنها الخطبة " لأن النبي صلى الله عليه وسلم ما صلاها بدون الخطبة في عمره " وهي قبل الصلاة بعد الزوال " به وردت السنة ( ج ۱ ص ۸۲)
وفي الدر المختار : (و) الرابع: (الخطبة فيه فلو خطب قبله وصلى فيه لم تصح اھـ ( ج ۲ ص ۱۴۷).
وفي رد المحتار: تحت (قوله الخطبة فيه أي في الوقت وهذا أحسن من قول الكنز والخطبة قبلها إذ لا تنصيص فيه على اشتراط كونها في الوقت. اھـ (ايضاً).