نجاسات اور پاکی

قطروں کی مریض کا عمرہ کے لئے جاتے ہوئے کنڈم پہننے کا حکم

فتوی نمبر :
4051
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

قطروں کی مریض کا عمرہ کے لئے جاتے ہوئے کنڈم پہننے کا حکم

محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
میں اکثر جب استنجا کرتاہوں فارغ ہوتا ہوں، تو پیشاب کےقطرے گرتے ہیں، یہ ہمیشہ نہیں ہوتا ،مگر اکثر یا پھر نماز میں سجدہ میں جاؤں تو اس وقت گرتے ہیں، میں تو پیشاب کرنے کے بعد بہت دباتا بھی ہوں کہ جو قطرہ گرناہے تو گرجائے ،یعنی بہت کچھ کرتاہوں، یہ ہمیشہ نہیں اکثرنہیں گرتے کبھی گرتے ہیں کبھی نہیں۔ یعنی میں وضو کے لئے استنجاء کرتا ہوں تو یا تو نماز کے سجدے میں قطرے گرتے ہیں یا پھر وضو کرنے کے بعد
میرا مسئلہ یہ ہے کہ اپریل کے مہینہ میں عمرہ کرنے جارہاہوں تو کیا ان قطروں سے بچنے کے لئے کنڈم پہن سکتاہوں، تاکہ قطرے گرنے سے کم از کم احرام ناپاک نہ ہوجائے اور کیا ایسی حالت میں عمرہ ہوجائے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کسی نماز کا پورا وقت (مثلاً ظہر کے ابتدائی وقت سے ظہر کے اخیر وقت تک) ایسا گزر جائے کہ سائل کو اس پورے وقت میں اتنی فرصت نہ ملے کہ وہ طہارت کاملہ کے ساتھ نماز پڑھ سکے تو اس صورت میں وہ شرعاً معذور ہے، اس صورت میں وہ نماز بھی مذکور عذر کے ہوتے ہوئے پڑھ سکتاہے ،اس کی وجہ سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا اور نہ ہی کپڑے ناپاک تصور ہوں گے، اور ایسی حالت میں عمرہ بھی بلا شبہ ادا ہوجائے گا اور اگر مذکور عذر پورے وقت میں نہ ہوتا ہو، بلکہ کبھی لاحق ہوتا ہو اور کبھی نہیں ،تو اس صورت میں مکمل طہارت کے بعد لنگوٹ باندھ کر یا کنڈم پہن کر عمرہ کرسکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: وان سأل علی ثوبه فوق الدرهم جاز له أن لا یغسله. (۱/ ۳۰۶)
وفیه ایضًا: والمعذور انما تبقی طهارته فی الوقت بشرطین اذا توضأ لعذره ولم یطرا علیه حدث اٰخر. (۱/ ۳۰۷) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ثابت بخاری عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4051کی تصدیق کریں
0     209
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات