بندے کے ساتھ بیماری یہ ہے کہ بیت الخلا سے فراغت کے بعد پیشاب کے چند قطرے آتے ہیں اور بہت کم وقت کے لئے، اس کے علاوہ کسی اور اوقات میں نہیں آتے، براہ مہربانی اس سے بچنے کا طریقہ بیان کریں، میرے لئے شریعت کے کیا احکامات ہوں گے؟
سائل کو اگر پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد صرف چند قطرے ہی آتے ہوں تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیے کہ پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد جب قطروں سے اچھی طرح اطمینان ہوجائے تو وضو کرکے نماز پڑھ لیا کرے۔
کما فی الدر المختار: فی فروع یجب الاستبراء بمشي وتنحنح أو نوم علی شقه الأیسر ویختلف بطباع الناس اھ (۱/ ۳۴۴)
وفی رد المحتار: مطلب فی الفروق بین الاستبراء والاستنقاء والاستنجاء قوله (یجب الاستبراء الخ) هو طلب البراءة من الخارج بشیئ مما ذکره الشارح حتی یستیقن بزوال الأثر ومحله إذا أمن خروج شیئ بعده فیندب ذلك مبالغة فی الاستبراء أو المراد الاستبراء بخصوص هذه الأشیاء من نحو المشي والتنحنح أما نفس الاستبراء حتی یطمئن قلبه بزوال الرشح فهو فرض وهو المراد بالوجوب ولذا قال الشنبلالی یلزم الرجل الاستبراء حتی یزول أثر البول ویطمئن قلبه. اھ (۱/ ۳۴۴) واللہ اعلم بالصواب!