کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو بہنیں ہیں اور دونوں حیات ہیں لیکن ایک بہن کی اولاد نہیں تھی، جس بہن کی اولاد نہیں تھی اس نے اپنی دوسری بہن سے ایک بیٹا (ایڈوپٹ) گود لیا پیدائش ہی کے دن ، اس وقت اس لے پالک بچے کی عمر 24 سال ہے، پھر جس نے گود لیا تھا عمرے پر جانے کیلئے بچے کے پاسپورٹ وغیرہ پر اپنے شوہر یعنی اس بچے کے منہ بولے باپ کا نام لکھوایا ، اور یہ بات پورے خاندان کو معلوم ہے کہ ایک بہن نے دوسری بہن سے بیٹا گود لیا ہے ، اور جس بہن نے اس بچے کو گود لیا ہے وہ یہ بھی کہتی ہے کہ جب اس بچے کا نکاح ہوگا تو اس اصلی والد کا نام لکھوایا جائے گا اور بچے کو بھی اس پورے معاملے کا علم ہے اور تقریباً 18 سال کے عمر میں بچے کو جب اس بات کا معلوم ہوا کہ جنہوں نے مجھے پالا وہ میرے حقیقی والدین نہیں ہے اس کے بعد بھی وہ اپنے حقیقی والدین کے پاس نہیں گیا بلکہ گود لیے ہوئے والدین کے ساتھ ہی رہ رہا ہے ، اب جس نے بچہ دیا ہے یعنی اس بچہ کی حقیقی والدہ چونکہ تفسیر سے قرآن پڑھ رہی ہے اس لیے وہ کہتی ہے کہ میں یہ چاہتی ہوں کہ کورٹ میں جاکر یہ بات لکھواؤں یا کورٹ سے اس بات کی سرٹیفکیٹ مل جائے کہ اس بچے کے حقیقی والدین دوسرے ہیں اور جن کے ساتھ یہ رہ رہا ہے انہوں نے اس بچے کو ایڈوپٹ (گود )لیا ہے ،جنہوں نے گود لیا ہے انکی اپنی جائیداد بھی ہے ، انکا کہنا ہے کہ جب ہم نے اس کو پالا ،بڑا کیا، گود لیا تھا اس کو جائیداد بھی ہم دینگے۔ اب جب پورے خاندان کو اس بات کا پتہ ہے تو کورٹ میں جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں مجھے یہ بات بتلائیں کہ کیا اس بچے کی حقیقی والدہ کے لئے کورٹ میں جاکر سرٹیفیکٹ حاصل کرنا اور کورٹ سے اقرار نامہ لینا ضروری ہے؟
واضح ہو کہ شریعت میں کسی بچے کو گود لینے ، لے پالک بنانے سے وہ حقیقی اولاد کی طرح نہیں بنتا اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد کے احکام (جیسے وارث ہونا ،گود لینے والے کی طرف ولدیت کا منسوب ہونا وغیرہ ) جاری ہوتے ہیں ، اس لیے لے پالک حقیقی بیٹوں کی طرح وراثت میں شریک نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کو حقیقی اولاد کی طرح حصہ ملتا ہے اور نہ ہی لے پالک کو اپنی ولدیت میں شامل کرنا درست ہے ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں گود لیے ہوئے میاں بیوی کے لیے لے پالک بچے کو اپنی طرف منسوب کرنا اور اس سے متعلقہ سرکاری و غیر سرکاری دستاویزات میں بجائے اس کے حقیقی والد کے اپنا نام درج کروانا شرعاً جائز نہیں ، اس لئے میاں بیوی پر لازم ہے کہ اس بچے سے متعلقہ تمام دستاویزات میں اس کے حقیقی والد کا نام درج کروائے ، تاکہ اپنے حقیقی والدین ہی کے جائیداد کا وارث بننے کی صورت میں اسے قانونی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اس کے بعد کورٹ سے سرٹیفیکٹ لینے کی ضرورت باقی نہ رہیگی ،البتہ اگر گود لینے والے میاں بیوی اس لے پالک کواپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال اور جائیداد میں سے بطورِ احسان کچھ دینا چاہیں تو بلا شبہ دے سکتےہیں اور یہ شرعا ہبہ (گفٹ) کہلائے گا جو بطور ہبہ دی جانے والی جائیداد پر قبضہ و تصرف کے اختیار حاصل کرنے کے بعد ہی تام ہوگا ۔
کما فی القرآن المجید : وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ (سورۃ الاحزاب۔رقم الایۃ:٤)
وفي التفسیر المظہری :فلا یثبت بالتبني شيئ من الاحكام البنوة من الارث و حرمة النكاح و غير ذلك (ج: ٧،ص:٢٨٣ )
وفي رد المحتار تحت (قوله: الإقرار بالولد إلخ) قال عليه الصلاة والسلام حين نزلت آية الملاعنة الى قوله : وفي الصحيحين عنه عليه الصلاة والسلام «من ادعى أبا في الإسلام غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام» (باب اللعان ،ج:٣ ص: ٤٩٣،مط : سعيد)
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0