السلام علیکم ! میرا سوال لے پالک بچے اور اس کی رضاعت سےمتعلق ہے،براہِ مہربانی رہنمائی کیجیے، میری بیوی کی بڑی بہن نے آج سے ڈیڑھ سال پہلے اپنی جٹھانی سے نومولود بیٹا لیا، اب عالمِ دین سے مشورہ کیا ہے تو انہوں نے بتایا ہے کہ دو سال کے بعد اگر بچے کو رضاعت میں نہ لیا تو بچہ اپنی سوتیلی ماں (چچی) کے لیے ’’نامحرم‘‘ ہو جائے گا،سوال 1:”نامحرم‘‘ والے معاملے پر رہنمائی کیجیے؟سوال 2:مزید یہ کہ وہی عالمِ دین نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اگر سوتیلی ماں (چچی) رضاعت نہیں کر سکتی تو ان کی کوئی بہن بھی رضاعت کر کے بچے کو اپنی بہن کے لیے نامحرم ہونے سے روک سکتی ہے،اس معاملے میں بھی رہنمائی کیجیے؟سوال 3:آخری سوال یہ ہے کہ رضاعت کرنے والی ماں (چچی کی بہن) پر شریعت کے مطابق کیا ذمہ داری آئے گی رضاعت کرنے کی صورت میں؟جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ میں لےپالک بیٹے کو حقیقی بیٹے کا درجہ حاصل نہیں ہوتااور نہ ہی گود لینےوالی خاتون لےپالک کی حقیقی ماں کا حکم رکھتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں مذکوربچے کی عمر دو سال مکمل ہونے سے پہلے اگر سائل کی بیوی کی بڑی بہن اسے اپنا دودھ یا اپنی کسی بہن کا دودھ پلادے تو وہ بچہ اس کا رضاعی بیٹا یا رضاعی بھانجا بن جائے گا، جس طرح حقیقی بھانجا اور حقیقی بیٹا محرم ہوتا ہے،اسی طرح رضاعی بھانجا اور رضاعی بیٹا بھی محرم ہوتا ہے،چنانچہ رضاعی بیٹا یا بھانجا بننے کی وجہ سےمذکور بچے کے بالغ ہونے کےبعد گودلینے والی چچی کو اس سے پردہ کرنے کی ضرورت بھی نہ ہوگی،اورمذکورہ طریقہ اختیار کرنے میں شرعًا کوئی قباحت بھی نہیں،ورنہ دوسال کے اندر اسےدودھ نہیں پلایا ،تو ایسی صورت میں وہ بچہ لےپالک بیٹا ہونے کے باوجود دیگر نامحرم مردوں کی طرح چچی کے حق میں اجنبی ہوگا،اور اس سے بھی پردہ کرنا شرعا لازم ہوگا،جبکہ کسی کے بچے کو گودلینا اور اس کی پرورش کرنا اگرچہ فی نفسہ جائز ہے ،لیکن پرورش کرنے والےپر لازم ہےکہ ایسے بچوں کی نسبت ان کے حقیقی والدین ہی کی طرف کریں ، جن کی پشت سے وہ پیدا ہوئے ہیں، اس میں رد وبدل کرنے کی اجازت نہیں،نیز مذکور چچی اور اس بچہ کے درمیان حرمت رضاعت ثابت ہو کر رضاعی ماں، بیٹے کے درمیان باہم احترام کا رشتہ قائم ہو جائے گا ،باقی اس پر اس کے نان ونفقہ کی کوئی ذمہ داری عائد نہ ہوگی۔
کماقال اللہ تعالی: ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به ولكن ما تعمدت قلوبكم وكان الله غفورا رحيما (الأحزاب: ٥)
وفي سنن ابي داؤد: عن سليمان بن يسار، عن عروة عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة(باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب،ج:1،ص:866،ط:بشری)
وفى الدر المختار: ( فيحرم منہ) ای بسببہ(مایحرم من النسب ) اھ (باب الرضاع،ج:3،ص: 213،ط:سعید)
وفى الهندية : يحرم على الرضيع ابواه من الرضاع و اصولھما و فروعھما من النسب و الرضاع جميعا حتی ان المرضعۃ لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذه الارضاع أوبعده أو ارضعت رضیعاً أو ولد لھذا الرجل من غیر ھذہ المرأۃ قبل ھذا الارضاع أو بعدہ أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل اخوة الرضيع وأخواته و أولادهم أولاد أخوته وأخواته وأخو الرجل عمه واخته عمته وأخو المرضعة خاله و اختھا خالته وكذا في الجد والجدةاھ(كتاب الرضاع،ج;1،ص:343،ط:ماجدیہ )
وفي البحرالرائق : (قوله: زوج مرضعة لبنها منه أب للرضيع وابنه أخ وبنته أخت وأخوه عم وأخته عمة) بيان لأن لبن الفحل يتعلق به التحريم لعموم الحديث المشهور وإذا ثبت كونه أبا له لا يحل لكل منهما موطوءة الآخر، والمراد به اللبن الذي نزل من المرأة بسبب ولادتها من رجل زوج أو سيد فليس الزوج قيدا في كلامه قال في الجوهرة: وإنما خرج مخرج الغالب وإذا ثبتت هذه الحرمة من زوج المرضعة فمنها أولى فلا تتزوج الصغيرة أبا المرضعة لأنه جدها لأمها ولا أخاها لأنه خالها ولا عمها لأنها بنت بنت أخيه ولا خالها لأنها بنت بنت أخته ولا أبناءها، وإن كانوا من غير صاحب اللبن لأنهم إخوتها لأمهااھ(باب الرضاع،ج:3،ص:226،ط:رشیدیۃ)۔
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0