میری بہن کے محلے میں کچھ عورتیں گھر میں جمعہ کی نماز جماعت کےساتھ پڑھتی ہیں، اور امامت بھی عورت ہی کرواتی ہے، لیکن امامت کی وقت ساری کے ساری عورتیں ایک ہی صف میں ہوتی ہیں، کیا عورت کا اس طرح امامت کرواناجائز ہے؟ براہ مہربانی فتوی کا پرنٹ اپنے لیٹر ہیڈ پر دینا جو میں پرنٹ کرکے ان کو دیدوں۔
واضح ہو کہ عورتوں کے ذمہ نماز جمعہ کی ادائیگی لازم نہیں، جبکہ تنہاء عورتوں کا عام فرض نماز اور سنت جیسے تراویح با جماعت ادا کرنا بھی جائز نہیں بلکہ مکروہ تحریمی ہے، جبکہ جمعہ کی ادائیگی صحیح ہونے کےلیے دیگر شرائط جیسے اذن عام کا ہونا بھی ہے، لہذا محلے کی عورتوں پر لازم ہے کہ گھر میں جمعہ کی نماز باجماعت ادا کرنے کی بجائے الگ الگ ظہر کی نماز پڑھنے کا اہتمام کریں، تاکہ نیکی برباد گناہ لازم کا مصداق نہ ہو۔
ففي الدر المختار: (و) يكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح إلى قوله ويكره حضورهن الجماعة ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقا) ولو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان اهـ
وفي الفتاوى الشامية لابن عابدين الشامي: قوله على المذهب المفتى به) أي مذهب المتأخرين. قال في البحر: وقد يقال هذه الفتوى التي اعتمدها المتأخرون مخالفة لمذهب الإمام وصاحبيه، فإنهم نقلوا أن الشابة تمنع مطلقا اتفاقا اهـ (۱/۵۶۶، باب الإمامة)
وفيه أيضا: وكذا تسمى جمعة لاجتماع الجماعات فيها فاقتضى أن تكون الجماعات كلها مأذونين بالحضور تحقيقا لمعنى الاسم بدائع اهـ (۲/۲۵۱)۔