نجاسات اور پاکی

نماز اور تلاوت میں کثرت سے ہوا خارج ہو کیا کرے؟

فتوی نمبر :
45057
| تاریخ :
2021-04-14
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

نماز اور تلاوت میں کثرت سے ہوا خارج ہو کیا کرے؟

السلام علیکم! میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے وضو کے دوران اور نماز میں اور قرآن پڑھتے وقت ہوا خارج ہوجاتی ہے، اور پانچ منٹ بعد پھر ہوتی رہتی ہے، تو میرا وضو ٹوٹ جائے گا؟ اور بار بار وضو کرنا پڑے گا؟ یہ مسئلہ فجر اور ظہر اور زیادہ تر نمازوں میں ہوتا ہے، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ نہ ہوا ہو، قرآن پڑھتے وقت بھی ہوتا ہے، کیسے پتہ لگایا جائے کہ یہ جو ہوا خارج ہوئی ہے اس سے وضو ٹوٹ گیا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو یہ عذر اگر اس قدر تسلسل سے درپیش ہو کہ اس کے تسلسل کی وجہ سے نماز کے پورے وقت میں اتنا وقت بھی نہ ملے کہ ، جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ فقط وقتیہ فرض ادا کرسکے، تو اس صورت میں سائل شرعاً معذور کے حکم میں داخل ہوگا ، اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مثلاً ظہر کی ادائیگی کیلئے وہ ظہر کے ابتدائی وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے ، اگر اس دوران اسے اتنا وقت بھی نہ ملے کہ ، وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کرسکے، تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضوکرکے فقط فرض نماز پڑھے، اس کے بعد عصر کی نماز کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کرکے نمازِ عصر باجماعت ادا کرے اس دوران ہوا خارج ہوتی رہے ، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح مغرب، عشا، فجر تمام نمازوں کے اوقات کیلئے وضو کرلیا کرے، اور پھر اس وضو سے وہ تمام عبادات (نماز، قرآن کی تلاوت، وغیرہ) بجالاتا رہے، اور سائل اعتکاف میں بھی بیٹھ سکتا ہے، چنانچہ اس پورے وقت میں اگر ہوا خارج ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا ، تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے سائل کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اس دوران اگر پورا وقتِ نماز ایسا گزرے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہو تو وہ شرعاً معذور نہیں رہے گا، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا یمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ریح أو استحاضة) أو بعینه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما یخرج بوجع ولو من أذن وثدی وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا یجد فی جمیع وقتها زمنا یتوضأ ویصلی فیه خالیا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (فی حق الابتداء، وفی) حق (البقاء كفی وجوده فی جزء من الوقت) ولو مرة (وفی) حق الزوال یشترط (استیعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقیقة) لأنه الانقطاع الكامل وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما فی ﴿لدلوك الشمس﴾ [الإسراء: ۷۸] (ثم یصلی) به (فیه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولی (فإذا خرج الوقت بطل) أی: ظهر حدثه السابق، حتی لو توضأ علی الانقطاع ودام إلی خروجه لم یبطل بالخروج ما لم یطرأ حدث آخر أو یسیل كمسألة مسح خفه، وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعید أو ضحی لم یبطل إلا بخروج وقت الظهر. (وإن سال علی ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا یغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أی: الصلاة (وإلا) یتنجس قبل فراغه (فلا) یجوز ترك غسله، هو المختار للفتوی الخ(٣٠٦/١)
وفی حاشیة ابن عابدین: متنا (قوله: ونحوه) كالبدن والمكان ط (قوله: اللام للوقت) أی: فالمعنی لوقت كل صلاة، بقرینة قوله بعده فإذا خرج الوقت بطل، فلا یجب لكل صلاة خلافا للشافعی أخذا من حدیث ’’توضیٔ لكل صلاة‘‘ قال فی الإمداد: وفی شرح مختصر الطحاوی روی أبو حنفیة عن هشام بن عروة عن أبیه عن عائشة – رضی الله عنها – ’’أن النبی - ﷺ - قال لفاطمة بنت أبی حبیش: توضیٔ لوقت كل صلاة‘‘ ولا شك أنه محكم؛ لأنه لا یحتمل غیره بخلاف حدیث ’’لكل صلاة‘‘ فإن لفظ الصلاة شاع استعماله فی لسان الشرع والعرف فی وقتها فوجب حمله علی المحكم وتمامه فیه .
(قوله: ثم یصلی به) أی: بالوضوء فیه أی: فی الوقت (قوله: فرضا) أی: أی فرض كان نهر أی: فرض الوقت أو غیره من الفوائت (قوله: بالأولی)؛ لأنه إذا جاز له النفل وهو غیر مطالب به یجوز له الواجب المطالب به بالأولی، أفاده ح، أو؛ لأنه إذا جاز له الأعلی والأدنی یجوز الأوسط بالأولی (قوله: فإذا خرج الوقت بطل) أفاد أن الوضوء إنما یبطل بخروج الوقت فقط لا بدخوله خلافا لزفر، ولا بكل منهما خلافا للثانی وتأتي ثمرة الخلاف (قوله: أی: ظهر حدثه السابق) أی: السابق علی خروج الوقت اھ(٣٠٦/١) والله اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 45057کی تصدیق کریں
0     1467
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات