زید کو پیشاب کے قطروں کا مرض ہے اور زید نے شروع میں احتیاط نہیں کی ،اور استنجاء کے بعد فوری طہارت حاصل کرلیتا تھا ، اور کبھی غسل بھی کرلیتا تھا ، اب صحیح مسئلہ معلوم ہونے کے بعد قطرے روکنے کے بعد استنجاء کرتا ہے ، لیکن اب گھر کی ہر چیز جسے اُس نے استعمال کیا ہے جیسے کرسی ، دروازے ، کھڑکیاں اور بیڈ پر ، اُس کی وجہ سے یہاں ناپاکی لگ گئی، اب زید کیا کرے وہ بہت پریشان ہے۔
زید نے اگرچہ ابتداء میں قطرے روکنے میں احتیاط سے کام نہ لیا ہو لیکن زید نے اس دوران جو چیزیں (کرسی، دروازے اور بیڈ وغیرہ) استعمال کی ہیں اس پر اگر ناپاکی (پیشاب کے قطرے) لگنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو ، تو فقط استعمال کرنے سے وہ چیزیں ناپاک نہ ہوں گی ، اس لئے بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
كما فی الدر المختار : و لو شك فی نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم یعتبر ، و تمامه فی الأشباه . اهـ (ج۱، ص۱۵۱)۔
و فیه ایضًا : من شك فی إنانه أو فی ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم یستیقن . اهـ (ج۱، ص۱۵۱)۔
و فی الأشباه و النظائر : الیقین لا یزال بالشك (الی قوله) و من ضرورة صیرورته مشكوكا فیه ارتفاع الیقین عن تنجسه و معصومیته ، و إذا صار مشكوكا فی نجاسته جازت الصلاة معه لان الیقین لا یرتفع (الی قوله) فإنه حینئذ لا یتصور أن یثبت شك فی محل ثبوت الیقین لیتصور ثبوت شك فیه لا یرتفع به ذالك الیقین . اهـ (ص۵۰)۔