نجاسات اور پاکی

پانی کے بغیر صرف ٹشوپیپر سے استنجاء کرنا

فتوی نمبر :
46318
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پانی کے بغیر صرف ٹشوپیپر سے استنجاء کرنا

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
مفتی صاحب مجھے پیشاب کا مسئلہ ہے رک رک کر آتا ہے اکثر پیشاب کے بعد قطرے بھی آتے ہیں, علاج جاری ہے ,میں پیشاب کرنےکے بعد عضوِ خاص کو ہلکا سا 2، 3 بار دباتا ہوں تاکہ پیشاب کی نالی میں جو قطرے رہ جائیں وہ بھی نکل جائیں, پھر ٹشو پیپر کے ٹکڑے سے وہ جگہ خشک کرتا ہوں(تاکہ اگر بعد میں بھی قطرہ آئے تو واضح طور پر معلوم ہوسکے) پانی کا استعمال نہیں کرتا تو اس صورت میں وضو اور نماز کا کیا حکم ہے؟
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں-

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو اگر پانی کے استعمال میں کوئی عذر نہ ہو ، تو پیشاب کرنے کے بعد پانی سے استنجاء بھی کرے، تاہم اگر پانی سے استنجاء نہ کرے اور پیشاب کے قطرے جسم پر مقدار درہم سے زائد نہ لگے ہوں تو نماز درست ہوگی ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی البحر الرائق : و فی فتاوی قاضیخان : و الاستنجاء بالماء أفضل إن أمكنه ذٰلك من غیر كشف العورة و إن احتاج إلی كشف العورة یستنجی بالحجر و لا یستنجی بالماء . اهـ (ج۱، ص۲۵۴)-
و فی الاختیار لتعلیل المختار : و الاستنجاء سنة من كل ما یخرج من السبیلین إلا الریح ، و یجوز بالحجر و ما یقوم مقامه یمسحه حتی ینقیه ، و الغسل أفضل . (ص۳، بترقیم الشاملة آلیا)-
الجوهرة النیرة : و إن كان علی بدنه نجاسة قدر الدرهم لا غیر إن لم یستنج لا تجوز صلاته ؛ لأن علی بدنه أكثر من قدر الدرهم ، و إن استنجی جازت صلاته سواء استنجی بالحجر أو بالماء ، و لو لم یستنج و لكن مسح ما علی بدنه بالحجارة لم یجز ؛ لأن النجاسة علی البدن لا تجوز إزالتها بالحجارة هذا حكم الغائط و أما البول إذا تجاوز عن رأس الإحلیل أكثر من قدر الدرهم فالظاهر أنه یجزیٔ فیه الحجر عند أبی حنیفة . (ج۱، ص۱۵۹)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 46318کی تصدیق کریں
1     765
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات