میرے والد کی عمر نوے سال ہے ، وہ نابینا ہوگئے ہیں ، پیشاب کنٹرول نہیں ہے ، اس لئے ڈائپر لگاتے ہیں ، ذہنی کمزوری کی وجہ سے واش روم خود لے کر جانا پڑتا ہے ، بعض دفعہ مجھے دفتری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا پڑتا ہے ، کیا اس دوران میری بیوی میرے والد کے ڈائپر کی تبدیلی اور استنجاء میں مدد کرسکتی ہے؟ کیونکہ کوئی اور متبادل نہیں ہے ؟
سائل کی بیوی کے لئے اپنے ضعیف العمر سسر کی شرمگاہ کی طرف نگاہ کرنا تو شرعاً جائز نہیں ، البتہ ان کی صفائی اور خدمت کے لئے اگر بیٹا ، بھائی وغیرہ یا کوئی مرد موجود نہ ہو تو اس کی مذکور بہو کے لئے بامر مجبوری ہاتھوں میں دستانے پہن کر ان کا ڈائپر تبدیل کرنے کی گنجائش ہوگی ، تاہم اس دوران بھی ان کو اپنی نگاہ کی حفاظت لازم ہے ، جبکہ استنجاء کے لئے جب کوئی مرد بیٹا ، بھائی وغیرہ نہ ہو تو سائل کے والد سے استنجاء ساقط ہوجاتا ہے ، اس لئے سائل کی بیوی کا استنجاء میں مدد کرنا درست نہیں ۔
کما فی رد المحتار: في التتارخانية : الرجل المريض إذا لم تكن له امرأة و لا أمة و له ابن أو أخ و هو لا يقدر على الوضوء قال يوضئه ابنه أو أخوه غير الاستنجاء ؛ فإنه لا يمس فرجه و يسقط عنه و المرأة المريضة إذا لم يكن لها زوج و هي لا تقدر على الوضوء و لها بنت أو أخت توضئها و يسقط عنها الاستنجاء اهـ (1/341)۔
و فی المحیط البرھانی : الرجل المریض اذا لم یکن (الیٰ قوله) یؤضئه ابنه او اخوہ غیر الطھور ، فانه لایمس فرجه و یسقط عنه الاستنجاء اھ (20/14)۔