نجاسات اور پاکی

بالائی چھت کے بیت الخلاء سے ٹپکنے والے پانی کا حکم

فتوی نمبر :
48692
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بالائی چھت کے بیت الخلاء سے ٹپکنے والے پانی کا حکم

زیریں بیت الخلاء کے ٹپکتے ہوئے قطرات کا حکم ، سوال : ہم ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر ہیں ، جب ہم اس کے بیت الخلاؤں کو استعمال کرتے ہیں تو زیریں بیت الخلاؤں میں بالائی چھت سے پانی کے قطرات ٹپکتے ہیں ، جن سے بچنا مشکل ہے اور وہ قطرات بظاہر صاف وشفاف اور غیر بدبودار ہوتے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ قطرات بدن یا کپڑوں پر لگ جائیں تو شرعاً اس سے بدن یا کپڑے ناپاک ہوتے ہیں یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جو پانی بالائی چھت سے ٹپکتا ہے، اگر بالائی چھت میں بھی بیت الخلاء ہی ہو اور بیت الخلاء کا ناپاک پانی چھت سے ٹپکتا ہو ، تو یہ پانی بھی ناپاک سمجھا جائے گا ، اگرچہ وہ صاف ، شفاف اور غیر بدبو دار ہو ، چنانچہ اگر یہ ناپاک پانی قدرِدرہم سے زائد کپڑوں پر لگ جائے تو دھو کر پاک کیے بغیر ان کپڑوں میں نماز پڑھنا درست نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر المختار : (و ينجس) الماء القليل (بموت مائي معاش بري مولد) في الأصح (كبط و إوز) و حكم سائر المائعات كالماء في الأصح ، حتى لو وقع بول في عصير عشر في عشر لم يفسد و لو سال دم رجله مع العصير لا ينجس خلافا لمحمد ذكره الشمني و غيره (و بتغير أحد أوصافه) من لون أو طعم أو ريح اھ (1/185)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 48692کی تصدیق کریں
0     1216
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات