نجاسات اور پاکی

مذی نکلنے کا گمان ہو مگر کپڑے پر نہ لگے تو نماز کا حکم

فتوی نمبر :
48795
| تاریخ :
2022-01-04
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

مذی نکلنے کا گمان ہو مگر کپڑے پر نہ لگے تو نماز کا حکم

السلام علیکم! جناب مفتی صاحب! جب میں سجدہ سہو میں جاتا ہوں تو کبھی کبھی لگتا ہے کہ مذی نکل گئی ہے، لیکن کپڑے پر نہیں آتی، جب استنجاء کرنے جاتا ہوں تو آلہ دبانے پر باہر نکلتی ہے، اس صورت میں نماز ادا ہو گئی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے عضوِ خاص سے اگر مذی باہر نہ نکلی ہو اور اس دوران سائل نے نماز اداکرلی ہو تو سائل کی نماز اداہوچکی ہے ، بعد میں عضو خاص (آلہ ) کو دبانے کی وجہ سے اگر مذی باہر نکل آئے تو اس سے پڑھی گئی نماز پر کوئی اَثر نہ ہوگا ، البتہ ایسا کرنے سے چونکہ سائل کا وضو ٹوٹ جائے گا، اس لیے اگلی نماز کےلیے سائل کے ذمہ وضو کرنا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: ولو نزل البول إلى قصبة الذكر لم ينقض الوضوء ولو خرج إلى القلفة نقض الوضوء. كذا في الذخيرة وهو الصحيح۔اھ(1/ 9)
وفی البحر الرائق: ثم الخروج في السبيلين يتحقق بالظهور، فلو نزل البول إلى قصبة الذكر لا ينقض، وإلى القلفة فيه خلاف، والصحيح النقض۔اھ (1/ 32)واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 48795کی تصدیق کریں
1     1841
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات