یکم ستمبر ۲۰۲۱ کو پراسٹیٹ (Prostet) نِکالنے کے لۓ سرجری ہوئی ، اور پیشاب کے لۓ (Catheter) لگا دیا گیا ، جسے دسمبر کو نِکال دیا گیا ، اس کے بعد سے پیشاب پر کنٹرول ختم ہو گیا ہے ، اس کے لۓ ڈائپر کا استعمال کر رہا ہوں ، جس کی وجہ سے جسم اور کپڑے ناپاک رہتے ہیں ، ایسے میں نماز کس طرح ادا کی جائے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کو پیشاب کے قطرے اگر اس قدر تسلسل سے آ رہے ہوں کہ اس کے تسلسل کی وجہ سے نماز کے پورے وقت میں اسے اتنا وقت بھی نہ ملے کہ جس میں سائل کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکے ، تو اس صورت میں سائل شرعاً معذور کے حکم میں داخل ہو جائےگا ، اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلا ادائیگئیِ ظہر کے لۓ وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے ، اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کرسکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرض نمازِ ظہر ادا کرے ، اس کے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کے لۓ پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کرکے نمازِ عصر باجماعت ادا کر لے اس دوران اگر پیشاب کے قطرے نکلتے بھی ہیں ، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا ، اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی وہ ایسا ہی کرے ، کہ ہر نماز کے لۓ الگ الگ وضو کر لیا کرے ، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا گیا ، تو مذ کور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹےگا ، البتہ اس دوران اگر پورا وقت نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گا ، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
في الدر المختار : (و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب ، و كذا كل ما يخرج بوجع و لو من أذن و ثدي و سرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ و يصلي فيه خاليا عن الحدث (و لو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (و هذا شرط) العذر (في حق الابتداء ، و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) و لو مرة (و في) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل . (و حكمه الوضوء) لا غسل ثوبه و نحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا و نفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي : ظهر حدثه السابق ، حتى لو توضأ على الانقطاع و دام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه . و أفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع و لو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر . (و إن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي : الصلاة (و إلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله ، هو المختار للفتوى (1/ 305،306)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله : و نحوه) كالبدن و المكان ط (قوله : اللام للوقت) أي : فالمعنى لوقت كل صلاة ، بقرينة قوله بعده فإذا خرج الوقت بطل ، فلا يجب لكل صلاة خلافا للشافعي أخذا من حديث «توضئي لكل صلاة» قال في الإمداد : و في شرح مختصر الطحاوي روى أبو حنيفة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة - رضي الله عنها - «أن النبي - صلى الله عليه و سلم - قال لفاطمة بنت أبي حبيش : توضئي لوقت كل صلاة» و لا شك أنه محكم ؛ لأنه لا يحتمل غيره بخلاف حديث " لكل صلاة " فإن لفظ الصلاة شاع استعماله في لسان الشرع و العرف في وقتها فوجب حمله على المحكم و تمامه فيه .(قوله : ثم يصلي به) أي : بالوضوء فيه أي : في الوقت (قوله : فرضا) أي : أي فرض كان نهر أي : فرض الوقت أو غيره من الفوائت (قوله : بالأولى) لأنه إذا جاز له النفل و هو غير مطالب به يجوز له الواجب المطالب به بالأولى ، أفاده ح ، أو لأنه إذا جاز له الأعلى و الأدنى يجوز الأوسط بالأولى (قوله : فإذا خرج الوقت بطل) أفاد أن الوضوء إنما يبطل بخروج الوقت فقط لا بدخوله خلافا لزفر ، و لا بكل منهما خلافا للثاني و تأتي ثمرة الخلاف (قوله : أي : ظهر حدثه السابق) أي : السابق على خروج الوقت . (1/ 306)۔