نجاسات اور پاکی

بیت الخلاء کے لوٹے اور نلکے کی طہارت کا حکم

فتوی نمبر :
50301
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بیت الخلاء کے لوٹے اور نلکے کی طہارت کا حکم

ہم گھر میں اکھٹے رہتے ہیں ، اکثر میں نے نوٹ کیاہے کہ واش روم کے لوٹے پر پیشاب کے چھینٹے ہوتے ہیں ، میں نے کئی بار دھویا ہے ، لیکن دو باره اسی طرح ہوتا ہے ، میں نے سب گھر والوں کو کئی باربتایا ہے ، لیکن کوئی بھی خیال نہیں کرتا ، میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اس لوٹے کو استعمال کر کے نلکے کو کھولتا ہے یا دروازہ کھولتا ہے تو کیا وہ نا پاک ہوجائے گا ؟ کیونکہ کسی کو روکنا میرے بس میں نہیں اور میرے لئے بہت مشکلات ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں واش روم میں رکھے ہوئے لوٹے پر جب تک نجاست کے لگنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو، تب تک بلاوجہ شکوک و شبہات میں نہیں پڑنا چاہیئے ،تاہم اگر واقعۃً لوٹے پر نجاست کے لگنے کا یقین یا غالب گمان ہو اور اسکو دھوئے اور پاک کئے بغیر اگر نجاست والی جگہ پر ہاتھ لگ جائے تو ہاتھ ناپاک ہو جائے گا ،چنانچہ اگر نجس ہاتھ دھوئے بغیر نکلے یا دروازے کو چھولیا جائے اور پیشاب کی تری نلکے اور دروازے پر بھی لگ جائے تو وہ بھی ناپاک ہو جائیں گے ، اس لئے بیت الخلاء میں قضائے حاجت کے وقت نجاست سے بچنے کا خوب اہتمام کرنا چاہیئے اور اگر ہاتھوں پر نجاست لگ جائے تو اس کو دھو کر پاک کرنے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی أكام المرجان فی أحكام الجان : و أصل الوسوسة الحركة و الصوت الخفي الذي لا يحس فيحترز منه فالوسواس الإلقاء الخفي في النفس و لما كانت الوسوسة كلاما يكرره الموسوس و يؤكده عند من يلقيه إليه كرر لفظها بازاء تكرير معناها اهـ (ص/217)۔
و فی هامش الملل و النحل : الوسوسة مرض يحدث من غلبة السوداء و يختلط معه الذهن ، وسوس الشيطان له حدثه بشر اهـ (1/15)۔
و فی لوامع الأنوار البهية : الى قوله ( وَ إِذَا وَسْوَسَ إِلَيْنَا الشَّيْطَانُ مَنَعَنَا بِمَا يُرْشِدُنَا إِلَيْهِ مِنَ الْأَذْكَارِ وَ غَيْرِهَا اهـ (2/259) ۔
و فی شرح ثلاثة الأصول لصالح الفوزان : أما الوسواس فهذا اسم من أسماء الشيطان ؛ لأنه يوسوس للإنسان و يخيل إليه و يشغله من أجل أن يلقي في قلبه الرعب و التردد و الحيرة في أموره خصوصا في أمر العبادة ، فإن الشيطان يوسوس للإنسان في العبادة حتى يلبس عليه صلاته أو عبادته ، ثم ينتهي به الأمر إلى أن يخرج من الصلاة و يعتقد أنها بطلت أو يصلي ثم يعتقد أنه على غير وضوء أو أنه ما قام لكذا أو أنه ما فعل كذا ويصبح في وسواس و لا يطمئن إلى عبادته ، فالله جل و
علا أعطانا الدواء لھذا الخطر و ذلك بأن نستعيذ بالله من شر هذا الوسواس
اهـ (ص /150)۔
و فی حاشية الطحطاوي على مراقی الفلاح : و التطهير إما إثبات الطهارة بالمحل أو
إزالة النجاسة عنه و يفترض فيما لا يعفى منها و قد ورد أن أول شيء يسأل عنه العبد في قبره الطهارة و أن عامة عذاب القبر من عدم الاعتناء بشأنها و التحرز عن النجاسة خصوصاً البول اھ (ص/152)۔
و فى الھداية : تطهير النجاسة واجب من بدن المصلي و ثوبه و المكان الذي يصلي عليه " لقوله تعالى : (وَ ثِيَابَكَ فَطَبَر} [المدثر: 4] و قال عليه الصلاة والسلام " حتيه ثم اقرصيه ثم اغسليه بالماء و لا يضرك أثره " و إذا وجب التطهير بما ذكرنا في الثوب وجب في البدن و المكان فإن الإستعمال في حالة الصلاة يشمل الكل اھ (1/36)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 50301کی تصدیق کریں
0     1274
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات