سوال: میرا مسئلہ یہ ہے کہ شروع میں مجھے پاکی ناپاکی کا کوئی خیال نہیں تھا اور میں کافی ناپاک چیزوں مثلاً: منی، مذی خون کو پاک سمجھتا تھا اور اس طرح سے کافی عرصہ چلتا رہا ،اب جب مجھے پتہ چلا تو اب میں بہت پریشان ہوں، اب مجھے ہر چیز جو میرے استعمال میں رہی، اس کے بارے میں شک ہے جو مسجد گیا تو ساری مسجد ناپاک ہوگئی، جن لوگوں کے گھر گیا ان کے سامان کو میں نے ناپاک کردیا اور ان کی نماز وغیرہ میری وجہ سے نہیں ہوئی اور سارا گناہ میرے سر؟ اب میرا جینا دوبھر ہوچکاہے۔ مہربانی فرماکر مجھے حل بتائیں؟
اگر کوئی ناپاک چیز تر ہو اور کسی خشک چیز کے ساتھ اس کا مَس ہوجائے تو اس سے خشک کپڑے وغیرہ کا ناپاک ہونا ظاہر ہے بشرطیکہ اس دوسری چیز پر نجاست یا تری کا اثر ظاہر ہو، جبکہ محض غسل کی حاجت ہوکر ناپاک ہونے کی صورت میں اس طرح کا مس دوسری چیز کو ناپاک نہیں کرتا، لہٰذا سائل ناپاک ہونے کی صورت میں جہاں جہاں گیا ہے، وہ جگہ محض اس کے وہاں قدم رکھنے کی وجہ سے ناپاک نہیں کہلائے گی اس لئے اسے بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
البتہ ناپاکی اور غسل کی حاجت ہونے کی صورت میں اگر وہ مسجد گیا ہو تو آداب مسجد کے خلاف کرنے کی وجہ سے وہ ضرور گناہ گار ہواہے، اس پر توبہ واستغفار اور آئندہ کیلئے اس سے احتراز بھی لازم ہے۔
فی الهندیة: ولو وضع رجله المبلولة على أرض نجسة أو بساط نجس لا يتنجس وإن وضعها جافة على بساط نجس رطب إن ابتلت تنجست ولا تعتبر النداوة هو المختار كذا في السراج الوهاج ناقلا عن الفتاوى. (1/ 47)۔
فی الدر المختار: (ویحرم بــ) الحدث (الأکبر دخول مسجد) لا مصلی عید وجنازة (الٰی قوله) (ولو للعبور الا لضرورة) (۱/ ۱۷۱) واللہ اعلم بالصواب!