کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ ہمارے علاقے میں" مسجد نورالاسلام"( آفریدی کالونی سعید آباد بلدیہ ٹاؤن کراچی) میں اکثر لوگ پتھروں سے پاکی کرتے ہیں، ہم ان کو بتاتے ہیں کہ پتھر سے درست پاکی نہیں ہوسکتی ہے، اور پاکی نہ ہونے کی وجہ سے نماز اور عبادات مشکوک ہوجاتے ہیں، مگر وہ لوگ پتھر کو ہی جائز قرار دیتے ہیں، اس سلسلے میں آپ سے فتویٰ کی ضرورت ہے تاکہ ان لوگوں کو سمجھایا جائے، اور غلط عادات سے وہ لوگ باز آجائیں، اور پانی سے استنجا شروع کردیں۔
پتھر اور ڈھیلے سے استنجا کرنا جائز اور سنت نبویﷺ ہے، البتہ پتھر وغیرہ کے بعد پانی بھی استعمال کرلینا چاہئے تاکہ پاکی اچھی طرح حاصل ہوجائے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور افراد کا پتھر ہی پر اکتفا کرنا اور فریق ثانی کا فقط پانی سے پاکی ہونا قرار دینا درست نہیں، بلکہ اس سلسلہ میں احتیاط پر عمل کرنا چاہئے جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہے، اور پتھر، ڈھیلے اور پانی کو جمع کرنا بھی سنت ہے، البتہ پتھروں کے سلسلہ میں احتیاط کرنی چاہئے کہ کسی محفوظ جگہ پر ڈال دیا کریں تاکہ بیت الخلاء وغیرہ بند نہ ہو۔
کما فی در المختار: (والغَسل) بالماء إلی أن یقع فی قلبہ أنہ طہر مالم یکن موسوسًا (الٰی قولہ) (سنۃ مطلقًا) وفی رد المحتار: أی فی زماننا وزمان الصحابہ لقولہ تعالٰی: {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ} قیل لما نزلت قال رسول اﷲ ﷺ یا أہل قباء إن اﷲ اثنی علیکم فما ذا تصنعون عندالغائط؟ قالوا نتبع الغائط الأحجار ثم نتبع الأحجار الماء فکان الجمع سنۃ علی الإطلاق فی کل زمان وہو الصحیح وعلیہ الفتویٰ۔ (شامی: ج۱، ص۳۳۷، ۳۳۸)-