کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد ہے جس میں جمعہ مبارک کی نماز سال بھر میں ٹھیک دو بجے ادا کی جاتی ہے۔ آیا نماز دو بجے ادا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ کیونکہ کمیٹی کی طرف سے ایک بندے نے یہ اعتراض کیا ہے کہ جمعہ مبارک کی نماز عام دنوں کی ظہر کی نماز سے پہلے پڑھنا چاہیے ، اس مسئلہ کو واضح کیجیے۔
واضح ہو کہ صحتِ نمازِ جمعہ کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نمازِ جمعہ وقتِ ظہر کے اندر ادا کی جائے، یعنی پورا وقتِ ظہر وقتِ جمعہ ہے۔ اب اگر کسی مسجد والے پورے سال ادائیگئی نمازِ جمعہ کے لیے جمیع وقتِ ظہر کے کسی بھی حصہ کو منتخب و مقرر کر لیں۔ خواہ وہ عام دنوں میں مقررہ نمازِ ظہر کے وقت سے پہلے کا ہو یا بعد کا ، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، اس لیے شخصِ مذکور کو بلاوجہ معترض ہونے سے احتراز چاہیے۔
ففی الفتاوى الهندية: (ومنها وقت الظهر) حتى لو خرج وقت الظهر في خلال الصلاة تفسد الجمعة اھ(1/ 146)۔
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: فتصح فيه فقط، ولا تصح بعده، ولا تقضى جمعة، فلو ضاق الوقت،(إلی قوله) ولأن الجمعة والظهر فرضا وقت واحد، فلم يختلف وقتهما، كصلاة الحضر وصلاة السفر. (2/ 1292)۔
وفی البدئع: وأما وقت الخطبة فوقت الجمعة وهو وقت الظهر اھ (۱/۲۷۲)۔