نجاسات اور پاکی

داغ دھبوں والے تھان کپڑوں پر لگنے کی صورت میں پاکی کا حکم

فتوی نمبر :
59309
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

داغ دھبوں والے تھان کپڑوں پر لگنے کی صورت میں پاکی کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کارخانہ میں کام کرتا ہوں، میرا کام کپڑوں کے تھان ُاٹھانا ہے اور جو کپڑوں کے تھان میں اٹھاتا ہوں اس کے اوپر لوگوں چپل رکھتے ہیں وہ چپل رکھنے کی وجہ سے اس تھان پر داغ دھبے پڑ جاتے ہیں اور جب ہم اس تھان کو اٹھاتے ہیں تو ہمارے کپڑے پسینے کی وجہ سے پہلے سے گیلے ہوتے ہیں اور وہ تھان ہمارے کپڑوں کے ساتھ لگتے ہیں کیا ہمارے کپڑے ا س سے ناپاک ہو جائیں گے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر یہ داغ دھبّے جوتوں کے کسی نجاست اور گندگی وغیرہ کے ساتھ ملّوث ہونے کی بناء پر ہوں تب تو متعلّقہ تھان کا متاثرہ حصہ بلاشبہ ناپاک ہے۔ اب اگر داغ دھبّے خشک ہو کر نجاست کا اثر بھی زائل ہوگیا اور محض دھبہ ہی باقی ہو تو کسی مزدور کے اس تھان کو اٹھانے اور اس حصے پر جسم یا کپڑوں کا پسینہ لگنے کی وجہ سے مزودور کا جسم یا کپڑے ناپاک نہ ہونگے، ورنہ ناپاک ہو جائیں گے اور نماز سے قبل ان کا پاک کرنا بھی ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: نام أو مشى على نجاسة، إن ظهر عينها تنجس وإلا لا.اھ(1/ 345)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: نام) أي: فعرق، وقوله: أو مشى: أي: وقدمه مبتلة. (قوله: على نجاسة) أي: يابسة لما في متن الملتقى لو وضع ثوبا رطبا على ما طين بطين نجس جاف لا ينجس، قال الشارح: لأن بالجفاف تنجذب رطوبة الثوب من غير عكس بخلاف ما إذا كان الطين رطبا. اهـ. (قوله: إن ظهر عينها) المراد بالعين ما يشمل الأثر؛ لأنه دليل على وجودها لو عبر به كما في نور الإيضاح لكان أولى. (قوله: تنجس) أي: فيعتبر فيه القدر المانع كما مر في محله اھ (1/ 346) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59309کی تصدیق کریں
0     1258
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات